http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 24 September, 2007, 16:30 GMT 21:30 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جوہانسبرگ

انڈیا ٹوئنٹی ٹوئنٹی چیمپیئن

وانڈررز میں تیس ہزار سے زائد تماشائیوں کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں دو روایتی حریفوں کے اعصاب شکن مقابلے کا اختتام بھارت کی پانچ رنز کی جیت پر ہوا جس نے پہلی بار منعقد ہونے والے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے نام کرلیا اور پاکستانی ٹیم بہت قریب آکر جیت سے دور ہوگئی۔

تفصیلی سکور بورڈ
دلی والوں کی امیدیں
ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی فائنل

پاکستانی بیٹنگ جو پورے ٹورنامنٹ میں ہچکولے کھانے کے بعد کسی نہ کسی بیٹسمین کی اچھی کارکردگی سے ٹیم کو منزل تک لے آتی تھی اس مرتبہ پوری طرح ایکسپوز ہوگئی۔ حالانکہ متاثر کن بولنگ کے ذریعے گھیرا تنگ کرتے ہوئے پاکستان نے بھارتی بیٹنگ کو بڑے سکور تک پہنچنے نہیں دیا تھا اور وہ مقررہ بیس اوورز میں5 وکٹوں پر157 رنز بناسکی تھی جس میں گوتم گمبھیر75 رنز کے ساتھ قابل ذکر رہے تھے۔

جواب میں پاکستان کی چھ وکٹیں صرف77 رنز پر گر چکی تھیں لیکن مصبا ح الحق کی مزاحمت نے ایک بار پھر امید کی کرن پیدا کی تاہم آخری اوور میں ان کے آؤٹ ہونے پر یہ آخری امید بھی دم توڑگئی اور پاکستانی ٹیم جیت سے صرف پانچ رنز کی دوری پر رہ گئی۔

مصباح الحق نے چار چھکوں کی مدد سے43 رنز بنائے۔

سہیل تنویر نے دو چھکوں کی مدد سے تیرہ رنز بناکر مصباح الحق کا ساتھ دینے کی کوشش کی لیکن ان کی وکٹ گرنے کے بعد مصباح الحق کے سامنے ٹیل اینڈر رہی رہ گئے اور جب آخری اوور شروع ہوا تو پاکستان کو جیتنے کے لیے تیرہ رنز درکار تھے۔ مصباح الحق نے جوگندر شرما کے اس اوور میں چھکا لگایا لیکن اوور کی تیسری گیند کو اسکوپ کرنے کی کوشش میں وہ شارٹ فائن لیگ پر شری شانتھ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کی اتارچڑھاؤ والی کارکردگی سے پاکستانی ٹیم کی مشکلات بڑھتی رہیں۔

محمد حفیظ صرف ایک رن بناکر پاکستان کی پہلی اننگز کے پہلے ہی اوور میں آر پی سنگھ کی گیند پر سلپ میں رابن اتھپا کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

ون ڈاؤن پر آنے والے کامران اکمل تین گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور بغیر کوئی رن بنائے آرپی سنگھ کے ہاتھوں بولڈ ہوگئے۔

عمران نذیر خود کو ایک بڑی اننگز کے لیے تیار کرچکے تھے لیکن اتھپا کی براہ راست تھرو نے ان کی وکٹ کی صورت میں پاکستان کو شدید مشکل سے دوچار کردیا۔ انہوں نے دو چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے33 رنز بنائے۔

یونس خان سری لنکا کے خلاف نصف سنچری کے بعد بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس اہم موقع پر ان سے وابستہ توقعات پوری نہ ہوسکیں اوروہ 24 رنز بناکر جوگندر شرما کی گیند پر یوسف پٹھان کو کیچ دے گئے۔ اسوقت پاکستانی ٹیم65 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔

اس مایوسی میں شاہد آفریدی کے غیرذمہ دارانہ شاٹ نے اضافہ کردیا جو پہلی ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے عرفان پٹھان کی گیند پر شری شانتھ کو کیچ تھماگئے۔

بھارت کی طرف سے عرفان پٹھان اور آر پی سنگھ نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔

اس سے قبل مہندر سنگھ دھونی نے ٹاس جیت کر وانڈررز کی ’بیٹنگ دوست‘ وکٹ پر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ میچ کی پہلی ہی گیند پر گوتم گمبھیر کے رن نے نان اسٹرائکنگ اینڈ پر کھڑے یوسف پٹھان کو تقریباً رن آؤٹ کرا دیا تھا۔ یوسف پٹھان نے سامنا کی ہوئی پہلی ہی گیند پر چھکا مارکر محمد آصف کو چیلنج دیا جسے قبول کرتے ہوئے انہوں نے پٹھان کو 15 کے انفرادی اسکور پر شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

سہیل تنویر نے رابن اتھپا کو 8 رنز پر آفریدی کے ہاتھوں کیچ کرایا تو بھارت کا اسکور 40 رنز تھا۔

پاکستان کے لیے یوراج سنگھ سب سے بڑا خطرہ تصور کئے گئے تھے لیکن یہ خطرہ اسوقت ٹل گیا جب عمرگل نے 14 کے انفرادی اسکور پر انہیں پویلین کا راستہ دکھادیا۔ یوراج نے گوتم گمبھیر کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے63 رنز جوڑے۔

گوتم گمبھیر اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پاکستانی بولنگ کے لیے آج یوراج بن گئے تھے لیکن عمرگل نے پہلے دھونی اور پھر گمبھیر کی اہم وکٹیں حاصل کرڈالیں۔
دھونی 6 رنز بناکر بولڈ ہوئے جبکہ گمبھیر کو محمد آصف نے کیچ کیا۔ ان کی 75 رنز کی عمدہ اننگز آٹھ چوکوں اور ایک چھکے سے مزین تھی۔

عرفان پٹھان اور روہیت شرما کے درمیان27 رنز کی شراکت نے بھارتی شائقین کی مایوسی کو کسی حد تک کم کیا۔ روہیت شرما نے دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 30 رنز بنائے۔