Friday, 14 September, 2007, 23:29 GMT 04:29 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈربن
پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے لیے ڈربن کے کنگزمیڈ گراؤنڈ میں آنے والے شائقین میں مجھے ایک سفید فام نوجوان پاکستانی شرٹ پہنے نظر آیا تو میں اس کی طرف بڑھا پتہ چلا کہ شرٹ کی پشت پر راشد6 لکھا ہے۔
یہ جنوبی افریقی نوجوان بریٹ تھا جس نے انکشاف کیا کہ2003ء ورلڈ کپ کے موقع پر یہ شرٹ اسے راشد لطیف نے دی تھی جو اس کے لیے قیمتی تحفہ ہے۔
ڈربن میں مقیم چار دوستوں کے گروپ سے گفتگو بہت دلچسپ رہی یہ سب ایک فلیٹ میں رہتے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد جاوید نے بتایا کہ ہم ساتھ رہتے ہیں لیکن گراؤنڈ میں آتے ہی وہ پاکستانی پرچم لہرانا شروع کردیتے ہیں اور ان کے دوست بھارتی جھنڈا لہراتے ہوئے اپنی جگہ سنبھال لیتے ہیں۔اس سوال پر کہ کبھی گرما گرمی نہیں ہوئی جاوید نے کہا کہ کبھی کبھی بحث تکرار ہوجاتی ہے لیکن ہاتھا پائی کی نوبت نہیں آئی۔
کنگز میڈ کے پہاڑی اسٹینڈ پر تیز میوزک میں مجھے دو خواتین بھارتی پرچم کے ساتھ رقص کرتی نظرآئیں ایک خاتون نے سچن تندولکر کے نام والی شرٹ پہن رکھی تھی اور وہ ’یہ میرا انڈیا‘ گارہی تھیں۔
![]() | |
| ایک ننھا بلے باز تو سچ مچ سچن تندولکر نکلا |
پاکستان اور بھارت کہیں بھی کھیلیں وہاں مقیم پاکستانی اور بھارتی شائقین بھرپور جوش کے ساتھ نہ صرف میدان میں آکر اپنی ٹیموں کے حوصلے بڑھاتے ہیں بلکہ ان کے انداز اور رنگوں سے پاک بھارت کرکٹ کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔