Saturday, 08 September, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاءکا کہنا ہے کہ شعیب اختر کا قصور قابل معافی نہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی بہت ضروری ہے۔
سابق سربراہ کے مطابق محمد آصف ٹیم کے جونیئر کھلاڑی ہیں اور بحثیت ایک سینیئر کھلاڑی شعیب اختر کی یہ حرکت انتہائی افسوس ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ شعیب کی اس حرکت کے سبب اتنے بڑے ایونٹ سے پہلے نہ صرف ملک کی جگ ہنسائی ہوئی ہے بلکہ اس سے ٹیم کا حوصلہ پست ہونے کا امکان ہے۔
توقیر ضیاء کے مطابق شعیب اختر نے محمد آصف کو بیٹ مار کر ڈسپلن کی جو خلاف ورزی کی اس سے ٹیم تو ان سے محروم ہوئی ساتھ ہی انہوں نے محمد آصف سے بھی ٹیم کو محروم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ محمدآصف کی چوٹ کی نوعیت کے بارے میں تو نہیں جانتے لیکن اگر اس وجہ سے وہ ایک یا دو میچ نہ کھیل سکے تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی۔
لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے کہا کہ ان کے خیال میں ’شعیب اختر نے یہ ڈرامہ انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے کے لیے رچایا ہے تاکہ ان پر پابندی لگے اور وہ اس کی آڑ میں انڈین لیگ میں جائیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ انہیں وہاں سے اچھی پیشکش ہوئی ہو‘۔
پی سی بی کے سابق سربراہ نے کہا کہ شعیب نے ان کے دور میں ڈسپلن کی ایسی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جب ضرورت ہوتی تھی وہ شعیب کے ساتھ سختی بھی کرتے تھے اور جب نرمی کی ضرورت ہوتی تو انہیں پیار سے بھی سمجھایا جاتا تھا
انہوں نے کہا کہ وہ اتنا مشکل نہیں ہےصرف ایسے کھلاڑی کو نفسیاتی طور پر ہینڈل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔