مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے ناخِوش گوار کے واقعہ کے ذمہ دار شاہد آفریدی ہیں۔
انہوں نے ڈیفنس کے علاقے میں ایک گھر کے پورچ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ جنوبی افریقہ میں شاہد آفریدی نے پریکٹس کے بعد ان کے خاندان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی جس پر وہ اشتعال میں آگئے اور ان کی ہاتھا پائی ہو گئی۔ انہیں چھڑانے کے لیے محمد آصف بیچ میں آ گئے اور غلطی سے بیٹ ان کو لگ گیا۔
شعیب اختر نے کہا کہ وہ آصف کو مارنا نہیں چاہتے تھے لیکن اس وقت وہ بہت غصے میں تھے اور غلطی سے آصف کو بیٹ لگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آصف میرا چھوٹا بھائی ہے اور ڈوپنگ کے سلسلے میں میں نے اس کی بہت مدد کی تھی میں اسے کیوں ماروں گا۔‘
شعیب نے فرانس کے فٹ بال کے کھلاڑی زین الدین زیدان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو ورلڈ کپ کے فائنل میں دوسری ٹیم کے کھلاڑی کی جانب سے ماں بہن کے خلاف نازیبا زبان پر ٹکر مار دی تھی ۔
شعیب اختر نے کہا کہ کوئی شخص ایسی بات برداشت نہیں کرتا چاہے وہ مذاق ہی میں کیوں نہ کہی گئی ہو۔
![]() | |
| آصف میرا چھوٹا بھائی ہے، میں اسے کیوں ماروں گا: شعیب اختر |
انہوں نے کہا کہ پاکستان کیا دنیا کی ہر ٹیم کے کھلاڑیوں کے آپس میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو اتنا نہیں اچھالا جاتا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا انڈین ٹیم میں گنگولی اور چیپل کے درمیان جھگڑے پر ایک ای میل کے منظر عام پر آنے سے انڈین ٹیم کو خمیازہ بھگتنا پڑا۔
شعیب اختر نے کہا کہ ان کے آنےسے اگر ٹیم کو نقصان پہنچےگا تو ان کو بہت افسوس ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس وجہ سے محمد آصف اور ٹیم کے باقی ممبران سے اور جن لوگوں کو ان کے آنے سے دکھ ہوا ہے معذرت خواہ ہیں۔
شعیب اختر نے کہا کہ وہ ملک کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں اور وہ فٹ ہیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پی سی بی کے ارباب اختیار سے مل کر انہیں تمام حقائق بتانا چاہتے ہیں اور وہ شاہد آفریدی کے خلاف بھی بورڈ سے باضابطہ شکایت بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف کوئی سخت کاروائی کی گئی تو ان کے پاس اور آپشنز بھی ہیں جن میں انڈین لیگ کا آپشن بھی ہے تاہم ان کے بقول انہوں نے انڈین لیگ کی جانب سے دی گئی کافی بڑی پیشکش کو ملک کے لیے ٹھکرا دیا۔
پی سی بی نے ڈوپنگ کمیٹی کے خلاف بیان دینے پر بھی شعیب کے خلاف ڈسپلنری ایکشن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر شعیب نے کہا کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں اور جمہوریت کے تحت ان کو بات کرنے کا پورا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈوپنگ کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ شاہد حامد نے ان کے خلاف فیصلہ دے کر ان کی کرکٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اس فیصلے سے شاہد حامد شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ان کے خلاف بات کی۔
شعیب اختر نے کہا کہ وہ چونکہ ایک مشہور آدمی ہیں اس لیے انہیں غیر ضروری طور پر تنازعات میں الجھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ذرائع ابلاغ بھی ان کے خلاف بے بنیاد خبریں بناتے ہیں۔