Sunday, 26 August, 2007, 14:31 GMT 19:31 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیت سکتی ہے تاہم ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ پہلی بار ہو رہا ہے اس لیے کون سی ٹیم جیتے گی اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔
آج قذافی سٹیڈیم لاہور میں 21 اگست سے جیف لاسن کے زیرِ تربیت شروع ہونے والا کیمپ ختم ہوا۔ کیمپ کے اختتام پر جیف لاسن نے کہا کہ ان چھ دنوں میں انہوں نے پاکستان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کا جائزہ لیا ہے جو بہت محنتی ہیں انہوں نے سخت تربیت بھی خوش دلی سے کی ہے اور وہ ان سے مطمئن ہیں۔
جیف لاسن نے تعریفی انداز میں کہا کہ فِٹنس کوچ ڈیوڈ ڈائر نے انہیں اگر صبح ساڑھے آٹھ بجے فِٹنس ٹریننگ کے لیے جِم میں بلایا تو یہ سب رضا کارانہ طور پر کیمپ میں آئے۔
انہوں نے کہا کہ اتنی گرمی میں بھی وہ تربیت سے نہیں گھبرا رہے اور کوشش کر رہے ہیں اور وہ ان سے بہت خوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم ان ٹیموں میں ہے جو یہ ورلڈ کپ جیت سکتی ہیں اور اس کے لیے ہم نے فِٹنس پر بہت کام کیا ہے اور حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
جیف لاسن نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا کہ پاکستان کی بیٹنگ کمزور ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ان میں غیر مستقل مزاجی ہے جس پر ہم کام کر رہے ہیں۔
جیف لاسن کا کہنا تھا کہ عالمی کپ میں میچ جیتنے کے لیے تینوں شعبوں بیٹنگ بالنگ اور فیلڈنگ میں اچھی کارکردگی دکھانی ضروری ہے۔ اگر آپ کی ٹیم 130 رنز بھی بنائے تو اس کا دفاع کرنا چاہیے اور اگر دوسری ٹیم آپ کو 200 رنز کا ہدف دے تو اسے پورا کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کی ٹیم کے فاسٹ بالر محمد آصف نے کندھے پر بینڈ چڑھا رکھا ہے۔ اس کی وجہ جیف لاسن نے بتائی: ’یہ احتیاطی تدبیر ہے اور انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔ محمد آصف نے فیلڈنگ کرتے ہوئے تھرو کرنے کے لیے اسے پہنا ہے کیونکہ ہم ٹرینگ کے دوران کوئی رسک نہیں لینا چاہتے‘۔