Sunday, 05 August, 2007, 13:45 GMT 18:45 PST
انگلینڈ نے جمعرات کو اوول میں انڈیا کے خلاف شروع ہونے آخری ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف اور پیس بالر میتھیو ہوگارڈ کہنی اور کمر میں تکلیف کی وجہ سے ابھی ٹیم میں واپس آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
لیسٹرشائر کے تیز بالر سٹیورٹ براڈ بارہویں نمبر پر ہیں اور انہیں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنا ہے۔لیکن ہو سکتاہے کہ وہ اس بار بھی نہ کھیل سکیں۔
انگلینڈ کو 2001 کے بعد پہلی شکست سے بچنے کے لیے یہ ٹیسٹ جیتنا ہوگا۔
سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈیوڈ گرینری کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بات سے انکار نہیں کہ ہم اس سیریز میں ایک کے مقابلے میں صفر پر کھیل رہے ہیں، انڈیا کو یہ سریز جیتنے کا حق ہے لیکن ہمارے بالروں کی کارگردگی بہت اچھی رہی ہے اور ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے تھوڑے اور رنز بنائے ہوتے تو کھیل کی شکل کچھ اور ہی ہوتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہمیں یہ سریز برابر کرنی ہے تو پہلی اننگز بہت اہم ہے‘۔
نوٹنگھم میں ہونے والے میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں جھگڑے دیکھنے میں آئے۔
انڈین بالر سری ناتھ کو انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان کو کندھا مارنے پر اپنے میچ کی آدھی فیس گنوانی پڑی جبکہ ظہیر خان نے پیٹرسن کی جانب اپنا بلہ لہرایا تھا۔ ظہیر کا کہنا تھا کہ ان پر جیلی بینز پھینکے گئے تھے۔
ڈیوڈ گرینری کا کہنا ہے کہ لندن میں حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے مجموعی برتاؤ کی نگرانی کی جائے گی۔ جیلی بین پھینکنے کی حرکت بچگانہ تھی اور اس معاملے سے اندرونی طور پر نمٹا جائےگا۔