http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 26 July, 2007, 00:38 GMT 05:38 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

جرمن خاتون کوچ کی توقعات

جرمن خاتون فٹبال کوچ مونیکا اسٹیب کا کہنا ہے کہ پاکستانی خواتین میں فٹبال کا شوق موجود ہے اور ان کی صحیح خطوط پر تربیت کی جائے تو پاکستان بھی خواتین فٹبال میں اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتا ہے۔

مونیکا اسٹیب چھ ہفتے کے دورے پر پاکستان آئی ہوئی ہیں ان کا یہ دورہ فیفا کے خواتین میں فٹبال کو فروغ دینے سے متعلق پروگرام کا حصہ ہے۔

چوالیس سالہ مونیکا اسٹیب نے جو جرمنی کے مشہور کلب فرینکفرٹ سے تعلق رکھتی ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غریب ملک ہو یا امیر وہ فٹبال کے سحر میں مبتلا ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان میں خواتین بھی فٹبال میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

مونیکا نے کہا کہ وہ پانچ ماہ بحرین میں رہی ہیں اور اس عرصے میں انہوں نے بحرین کی خواتین ٹیم تیار کرنے میں مدد دی۔ پاکستان میں بھی خواتین کی فٹبال ٹیم تیار ہوسکتی ہے لیکن یہ سب کچھ راتوں رات نہیں ہوسکتا اس کے لئے سخت محنت اور وقت چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کوچنگ ، انفرا اسٹرکچر اور زیادہ سے زیادہ مقابلے پاکستان میں خواتین فٹبال کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مونیکا کا کہنا ہےکہ انہیں مسلم معاشرے میں خواتین کے کردار کے بارے میں معلوم ہے لیکن وہ اتنا ضرور کہہ سکتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین فٹبال کھیلنا چاہتی ہیں۔
فٹبال ٹیم
فٹبال میں لڑکیوں کی بھی خاصی دلچسپی ہے

انہوں نے جرمنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ستر کے عشرے میں جب انہوں نے فٹبال شروع کی تو خواتین کے فٹبال کھیلنے پر پابندی تھی لیکن اسوقت ایک ملین جرمن خواتین فٹبال کھیل رہی ہیں۔

کراچی میں چالیس سے زیادہ خواتین فٹبالرز جن میں اکثریت طالبات کی ہے چار روز تک مونیکا اسٹیب سے تربیت حاصل کریں گی۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن نے اسی طرح کے تربیتی پروگرام کوئٹہ، لاہور، پشاور اور اسلام آباد میں بھی رکھے ہیں۔

مونیکا آئندہ ماہ اسلام آباد میں منعقدہ قومی ویمنز فٹبال چیمپئن شپ بھی دیکھیں گی اور پاکستان کی پہلی خواتین فٹبال ٹیم کی تشکیل کے لئے قومی سلیکٹرز کے ساتھ مل کر ممکنہ کھلاڑیوں کا انتخاب بھی کریں گی۔