عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سہیل عباس، وسیم احمد، محمد ثقلین اور غضنفر کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کو کارکردگی اور فٹنس سے مشروط کیا ہے۔ ہاکی کے حلقوں میں اسے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا یوٹرن قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا۔ مختلف حلقوں نے میر ظفر اللہ جمالی سے یہ کہا کہ کھلاڑی اپنی غلطی کی معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ معافی کا معاملہ نہیں ہے ان کھلاڑیوں کو احساس ہونا چاہیے کہ انہیں ملک کو ترجیح دینی چاہیے جس نے انہیں سب کچھ دیا ہے۔ اگر یہ کھلاڑی اپنی غلطی پر نادم ہیں تو انہیں بھی کھیلنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے رائے میں اس بات کا امکان برائے نام ہے کہ یہ کھلاڑی فوری طور پر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود سے پوچھا گیا کہ کیا ان کھلاڑیوں کو اسلام آباد میں جمعرات سے شروع ہونے والے کیمپ میں بلایا جارہا ہے تو انہوں نے سوال کیا کہ کس بنیاد پر؟
معافی طلبی اور پھر خلاف ورزی |
پاکستانی ٹیم کے منیجر اصلاح الدین نے سینئر کھلاڑیوں کے بارے میں فیڈریشن کی پالیسی میں تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں لاعلم ہیں۔
واضح رہے کہ سہیل عباس اور وسیم احمد نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر طارق کرمانی سے ملاقات کر کے بغیر اجازت لیگ کھیلنے پر معافی مانگی تھی جس کے بعد انہیں ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کرلیا گیا تھا تاہم ورلڈ کپ کے بعد یہ دونوں دوبارہ لیگ کھیلنے ہالینڈ اور بنگلہ دیش چلے گئے تھے اور ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم ان کے بغیر کھیلی تھی جس کے بعد ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میرظفراللہ جمالی نے ان کھلاڑیوں کے بارے میں سخت اور بقول ان کے اصولی موقف اختیار کیا تھا۔