Thursday, 12 July, 2007, 21:19 GMT 02:19 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
کسی بالر سے نو بال ہونے کی صورت میں اگلے بال پر بیٹس مین کو فری ہٹ ملنے کے آئی سی سی کے نئے قانون پر پاکستان کی ٹیم کے فاسٹ بالر شعیب اختر شدید ناراض ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انگلینڈ میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں کرکٹ کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے اس قانون کی منظوری دی گئی۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی بالر نو بال کرواتا ہے تو اگلی بال پر بیٹس مین کو فری ہٹ ملے گی اور اس بال پر بیٹس مین سوائے رن آؤٹ ہونے کے کسی اور طریقے سے آؤٹ نہیں ہو سکے گا۔
یہ قانون آزمائشی بنیاد پر اس سال اکتوبر سے ون ڈے کرکٹ میں لاگو کر دیا جائے گا جبکہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں یہ قانون پہلے سے ہی موجود ہے۔
دنیا کے تیز ترین بالرز میں سے ایک شعیب اختر اس قانون پر بہت سیخ پا ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ پہلے ہی فاسٹ بالرز دنیائے کرکٹ میں زوال پزیر ہیں اور اس طرح کے قوانین سے فاسٹ بالرز کو اور دھچکا لگے گا۔
![]() | |
انہوں نے کہا کہ بالرز کے لیے قوانین اتنے سخت کر دیئے گئے ہیں کہ بالرز کے پاس پرفارم کرنے کا کوئی موقع نہیں۔انہوں نے اس قانون کو نان سینس اور بالرز کے لیے تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے کرکٹ میں خرابی پیدا ہو گی۔
اپنے اور محمد آصف کے ڈوپنگ الزامات کے سلسلے میں واڈا کی اپیل مسترد ہونے پر شعیب اختر بہت خوش ہیں۔شعیب کے مطابق یہ ایک تلوار تھی جو ان کے سر پر لٹکی ہوئی تھی اور عالمی عدالت کے اس فیصلے سے انہوں نے سکون کا سانس لیا ہے۔
لاہور میں جاری کیمپ میں فاسٹ بالرز کی تربیت عاقب جاوید کر رہے ہیں شعیب اختر کے مطابق عاقب جاوید کے پاس اس شعبے میں بہت علم ہے اور ان کی خواہش ہے کہ عاقب کو پاکستان کی ٹیم کا بالنگ کوچ بنایا جائے۔
شعیب اختر کے مطابق انہیں ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کا تجربہ ہے اگرچہ یہ بیٹس مینوں کی کرکٹ ہے لیکن پھر بھی آخری اوورز میں اگر بالر اچھی بالنگ کروائے تو کارآمد ہو سکتا ہے اور وہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کے لیے اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔