Tuesday, 12 June, 2007, 23:40 GMT 04:40 PST
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضام الحق نے کہا ہے کہ جمیکن پولیس کے اس اعلان کے بعد کہ باب وولمر کی موت طبعی تھی، پاکستان کرکٹ بورڈ کو جمیکن پولیس سے جواب طلب کرنا چاہیے۔
منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے جو ورلڈ کپ کی اس پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جس پر باب وولمر کے ’قتل‘ میں ملوث ہونے کا عندیہ دیا گیا تھا، کہا کہ چونکہ پاکستانی ٹیم پر الزام عائد ہوا تھا لہذا اس پر بھرپور ایکشن لیا جانا چاہیے اور جمیکن پولیس سے جواب مانگا جانا چاہیے۔
تاہم انضمام کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کا ساتھ نہیں دے رہا اور جمیکن پولیس کے اعلان کے بعد بھی بالکل خاموش ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں جمیکن پولیس کے اعلان کے بعد اطمینان ہوا ہے کیونکہ باب وولمر کی موت کے بعد اس کا رویہ اچھا نہیں تھا۔
’میرا خیال ہے کہ جمیکن پولیس نے اس معاملے سے صحیح انداز سے بالکل نہیں نمٹا۔ ان کے پاس کچھ (شواہد و ثبوت) نہیں تھے اور وہ پلیئرز کو تنگ کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے تھے‘۔
ایک سوال کے جواب میں انضمام الحق نے کہا کہ کسی کھلاڑی کا ذاتی حیثیت میں جمیکا جا کر وہاں کی پولیس سے جواب طلبی کرنا بہت مشکل کام ہے۔
’پھر بھی کچھ پلیئر کوشش کر رہے ہیں کہ (پاکستان بورڈ کی خاموشی کے مدِنظر) جمیکا جا کر اس مسئلے کو اٹھائیں اور کوئی ایکشن لیں۔ ہم اس کی کوشش ضرور کریں گے‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کریں گے اور اس پر زور دیں گے کہ جمیکن پولیس کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے تو انضمام الحق نے کہا کہ یہ معاملہ واضح ہے اور بورڈ تمام صورتِ حال سے پہلے ہی آگاہ ہے۔
اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف نے کہا تھا کہ جمیکن پولیس نے وولمر کیس میں پاکستان یا پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا اور وہ جو بھی کر رہے تھے، ہم اس سے خوش تھے۔