عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان باکسنگ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کے مرتکب باکسرز مہراللہ اور فیصل کریم پر عائد تاحیات پابندی ختم نہیں کی گئی ہے۔
فیڈریشن نے مزید کہا کہ جب ان باکسرز پر انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن ( آئبا ) کی جانب سے عائد دو سالہ پابندی ختم ہوگی تب بھی وہ فوری طور پر بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سیکریٹری شکیل درانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن کے اجلاس میں دونوں باکسرز پر عائد تاحیات پابندی ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
شکیل درانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کولمبو میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز کے دوران ممنوعہ ادویات کے استعمال کی پاداش میں فیصل کریم اور مہراللہ پر عائد دو سالہ پابندی اگست2008ء میں ختم ہوگی جس کے بعد وہ پاکستان میں ہونے والے قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے ان دونوں باکسرز پر مشروط تاحیات پابندی عائد کی تھی کہ دوسالہ پابندی کے خاتمے پر دونوں کے طرز عمل کا بغور جائزہ لیا جائے گا خصوصا ڈوپنگ کے معاملے پر ان کی حرکات وسکنات کو باریکی سے دیکھا جائے گا اور اگر فیڈریشن ان سے مطمئن ہوئی تب ان پر تاحیات پابندی اٹھالی جائے گی۔
رسک نہیں لے سکتے |
واضح رہے کہ کولمبو کے ساؤتھ ایشین گیمز میں مہراللہ اور فیصل کریم نے طلائی تمغے حاصل کئے تھے لیکن قوت بخش ادویات استعمال کرنے پر پہلے ان پر صرف چھ ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی لیکن باکسنگ کی بین الاقوامی تنظیم آئبا نے اس سزا کو واڈا کے قوانین کے مطابق ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے دو سال کردیا تھاG
دوسری جانب پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے اپنے طور پر سخت سزا کے طور پر مہراللہ اور فیصل کریم کو زندگی بھر باکسنگ سے دور کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا مقصد دوسرے باکسرز کے لئے مثال قائم کرنا بتایا گیا تھا۔