Tuesday, 29 May, 2007, 17:00 GMT 22:00 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سابق کپتان اور موجودہ کمنٹیٹر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم سے انضمام الحق کو باہر کردینا بہت بڑی غلطی ہوگی کیونکہ موجودہ بیٹنگ لائن میں انضمام کی نہ صرف اب بھی جگہ بنتی ہے بلکہ ان کی کرکٹ بھی باقی ہے۔
رمیز راجہ نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی قائم کردہ ورلڈ کپ تحقیقاتی کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس کا مقصد صرف انضمام الحق کو ہدف بنانا تھا۔
واضح رہے کہ اعجاز بٹ کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کی ذمہ داری انضمام الحق پر عائد کرتے ہوئے ان کے لیے آمر اور خود سر جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ انضمام الحق کی خود مختاری کو صرف اس لیے چیلنج کیا گیا کہ وہ ورلڈ کپ ہارگئے، ورنہ عمران خان بھی خود مختاری کے طریقۂ کار کے تحت ٹیم چلاتے تھے۔ وہ ورلڈ کپ جیت گئے اس لیے ان پر انگلی نہیں اٹھی۔
رمیز راجہ نے کہا شعیب ملک باصلاحیت کپتان ہیں اس لیے ان کی حمایت کرنی چاہئے۔ ان کی کپتانی میں ٹیم نے اچھا آغاز کیا ہے تاہم ان کی صلاحیتوں کا اصل امتحان ٹیسٹ میچوں میں ہوگا کہ وہ پریشر کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں۔
رمیز راجہ نے اپنی اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستانی ٹیم کو کوچ کے بجائے بااختیار کپتان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوچز اور ٹیکنالوجی کو کرکٹ نے دس سال قبل اپنایا لیکن اب یہ بات سامنے آئی کہ کوالٹی متاثر ہوئی ہے کوئی بہتری نہیں آئی۔
’اگر کوچ گیم کو کنٹرول نہیں کرسکتا تو پھر وہ ٹیم پر اثرانداز یا مددگار کیسے ہوسکتا ہے۔ کوچنگ کی ضرورت بنیادی سطح پر ہے۔ بورڈ اپنا سسٹم مضبوط بناکر کپتان کو مضبوط بنائے ورنہ وہ کنفیوز ہی رہے گا کیونکہ شکست کے بعد کرکٹرز کپتان یا کوچ کا سایہ تلاش کرتے ہیں جس سے ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔‘