Monday, 28 May, 2007, 18:47 GMT 23:47 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر اور کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ کوچ کی ضرورت ہر ٹیم کو ہوتی اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو خاص طور پر کوچ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نسبتا نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہے۔
وسیم اکرم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بہت اچھے کوچز ہیں لیکن یہ صوابدید پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہے کہ وہ ٹیم کے لیے ملکی کوچ رکھے یا غیر ملکی۔
ریورس سوئنگ کے ماہر سمجھے جانے والے بالر وسیم اکرم نے کہا کہ انہیں پاکستان کا کوچ بننے کی ذمہ داری لینے میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ کوچنگ ایک بڑا ٹیکنیکل کام ہے اور وہ نہیں سمجھتےکہ وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔
وسیم اکرم جو کہ آج کل لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے لگائے گئے خصوصی کیمپ میں فاسٹ بالرز کی تربیت کر رہے ہیں اس خصوصی کیمپ میں موجود فاسٹ بالرز کی بابت ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فاسٹ بالرز میں اہلیت ہے ان کی رفتار بھی کافی ہے۔ انہیں اس کیمپ میں یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بیٹس مین کی خامی کیسے بھانپی جائے۔
پاکستان کی ٹیم کے نائب کپتان محمد آصف کی تعریف کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ بہت با صلاحیت ہیں لیکن مسلسل بالنگ کی پریکٹس سے ان میں نکھار پیدا ہو گا۔
فاسٹ بالر شعیب اختر کی فٹ نس کی بابت وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ شعیب اختر روزانہ اتنی گرمی میں سات،آٹھ اوورز کروا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کافی فٹ ہے لیکن میچ کھیلنے کے لیے اسے مزید محنت درکار ہے وہ زیادہ سے زیادہ بالنگ کرے اس سے اس کے بالنگ مسلز مزید بہتر ہوں گے اور پھر ہی وہ میچ کھیلے تو اچھا ہے، اس لیے وسیم اکرم کے مطابق ایفرو ایشین سیریز میں شرکت نہ کرنا شعیب اختر کے لیے بہتر ہے۔
شعیب اختر کا کہنا ہے کہ اس خصوصی کیمپ میں تربیت سے انہیں اپنی فٹ نس حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔