http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 14 May, 2007, 10:22 GMT 15:22 PST

سری لنکا کے کوچ سبکدوش

سری لنکا کے کرکٹ کوچ ٹام موڈی نے اپنے عہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد مغربی آسٹریلیا کا کوچ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے اپنے آبائی ملک میں تین سال کے لیے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کا فیصلہ عالمی کپ میں دوسرے نمبر پر رہنے والے سری لنکا کی جانب سے معاہدے میں توسیع کی پیشکش سے انکار کر کے کیا ہے۔

تاہم ٹام موڈی کا کہنا تھا کہ ’سری لنکا اور میرے درمیان جو مضبوط رشتہ بن چکا ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے میرے لیے سری لنکا کی کوچنگ کو خیر باد کہنا ایک بہت مشکل فیصلہ تھا، لیکن میں زندگی کے جس دور سے گزر رہا ہوں یہ اہم تھا کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا فیصلہ کروں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’سبکدوش ہونے کے باوجود سری لنکا کی مسلسل کامیابیوں کے لیے جیسے بھی ممکن ہوا میری خدمات حاضر ہیں اور مجھے سری لنکا کی معاونت کر کے بہت خوشی ہوگی۔‘

مغربی آسٹریلیا کی ٹیم کی کوچنگ کے بارے میں ٹام موڈی کا کہنا تھا کہ انہیں فخر ہے وہ اس ٹیم سے ماضی میں منسلک رہے ہیں اور ان کامیابیوں کا حصہ بنے جو ٹیم نے اسی اور نوے کی دہائیوں میں حاصل کیں۔

اکتالیس سالہ ٹام موڈی دو سال تک سری لنکا کے کوچ رہے ہیں اور اس عرصے میں ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کا سہرا ان ہی کے سر باندھا جاتا ہے۔

موڈی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ انگلینڈ کے کوچ ڈنکن فلیچر کے ممکنہ بدل ہو سکتے ہیں لیکن یہ ذمہ داری گزشتہ ہفتے انگلینڈ کے پیٹر مورس کو دے دی گئی تھی۔

سری لنکا میں قیام کے دوران ان کےنائب کے طور پر کام کرنے والے ٹریور پینی بھی انکے ساتھ مغربی آسٹریلیا جا رہے ہیں جہاں وہ ایک مرتبہ پھر ان کے اسسٹنٹ ہوں گے۔

ٹام موڈی کے واپس آسٹریلیا جانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سری لنکا کے کرکٹ کے انتظامی ادارے کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وہ ان کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں۔

کولمبو سے ایک بیان میں ادارے نے کہا کہ ٹام موڈی نے ’ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر سری لنکا کرکٹ کے ساتھ مزید کام کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ سری لنکا کرکٹ کو افسوس ہے کہ ٹام موڈی کو جانا پڑا اور ادارہ ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔ اپنے قیام کے دوران سری لنکا کو ملنے والی کامیابیوں میں ان کے کردار کے لیے ادارہ ان کا مشکور ہے اور ہم ان کی آئندہ کامیابیوں کے لیے دعا گو ہیں۔‘