Sunday, 13 May, 2007, 06:42 GMT 11:42 PST
آسٹریلوی وزیر اعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ اگر آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے اس سال ستمبر میں دورۂ زمبابوے منسوخ نہ کیا تو کھلاڑیوں کے پاسپورٹ کی تنسیخ بھی کی جاسکتی ہے۔
جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ زمبابوے سے زمبابوے کے صدر رابرٹ مگابے کو بہت فائدہ حاصل ہو گا۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طرف سے جاری کردہ پروگرام کے مطابق آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کو اس سال ستمبر میں تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے زمبابوے کا دورہ کرنا ہے۔
جان ہاورڈ نے آسٹریلیا کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزراتِ خارجہ کے ذریعے آسٹریلیا میں کرکٹ کے انتظامی ادارے’ کرکٹ آسٹریلیا‘ کو لکھا ہے کہ وہ آسٹریلیا کا دورہ منسوخ کردیں۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی حکومت اس مسئلہ کو بڑی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر کرکٹ آسٹریلیا نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو وہ حکومت کھلاڑیوں کو پاسپورٹ جاری کرنے اور منسوخ کرنے کے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔‘
کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سودرلینڈ نے کہا کہ وہ زمبابوے کی کرکٹ کو بہتر بنانے کے بھرپور مدد کرنے کے لیے تیار ہیں اور زمبابوے کے ساتھ یہ سیریز کسی تیسرے ملک میں کھیلنے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔
بی بی سی کے نمائندہ نک برائنٹ کا کہنا ہےکہ جان ہاورڈ زمبابوے کی حکومت کے بڑے پرانے مخالف ہیں لیکن یہ ان کی طرف سے زمبابوے کی حکومت کی سخت ترین مذمت ہے۔
جان ہاورڈ نے کہا کہ زمبابوے کی حکومت اپنے مخالفین کے ساتھ گسٹاپو جیسا سلوک کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے یہ دورہ کیا تو اس سے زمبابوے کے ’گندے آمر‘ کو بہت فائدہ ہوگا۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طرف سے ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی حکومت اپنی ٹیم کو کسی ملک کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو ایسی صورت میں اس کرکٹ ٹیم پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔
آسٹریلیا میں زمبابوے کے سفیر نے کہا ہے کہ اس طرح کے مسائل سے کھیلوں کے مقابلوں کو متاثر نہیں ہونا چاہیے اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ کرنے سے کرکٹ کی ترقی اور ترویج پر اثر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ زمبابوے کی ٹیم میں بہت سے نوجوان کھلاڑی شامل ہیں جو آسٹریلیا کے تجربہ کار کھلاڑیوں کی تقلید کرنا چاہیں گے۔