Wednesday, 09 May, 2007, 14:39 GMT 19:39 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بدھ کے روز جنوبی کوریا کے خلاف میچ دو کے مقابلے میں چار گول سے ہار کر پاکستانی ٹیم سولہویں ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
پیر کے روز لائٹ ٹاورز کی خرابی کے وقت یہ میچ دو دو گول سے برابر تھا لیکن نامکمل میچ کے باقی ماندہ وقت میں جنوبی کوریا نے پاکستانی ٹیم کو آؤٹ کلاس کردیا۔
پاکستانی ہاکی ٹیم کے منیجر و چیف کوچ اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے خلاف شکست کی وجہ تجربے اور فٹنس کی کمی ہے۔ سابق اولمپئنز نے بھی فٹنس کو جیت ہار کا بنیادی فرق قرار دیا ہے۔
اصلاح الدین جن کا اس ٹیم کے ساتھ یہ پہلی اسائنمنٹ تھی، جنوبی کوریا کے خلاف نتیجے سے خاصے دلبرداشتہ تھے۔ اپوہ ملائشیا سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ٹیم کو بنے ابھی ایک ماہ ہی ہوا ہے نئے کھلاڑیوں میں تجرے کی کمی ہے جبکہ سینئر کھلاڑیوں کو مزید محنت کرنی ہوگی اسی لیے وہ پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ ایک متوازن ٹیم کی تشکیل کے لیے انہیں وقت درکار ہے۔
اصلاح الدین نے کہا کہ فٹنس بھی ایک اہم وجہ ہے۔ جنوبی کوریا کے خلاف پیر کو کھیلےگئے نامکمل میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی تھی جبکہ منگل کو کینڈا کے خلاف بھی ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن بدھ کو ٹیم مسلسل تیسرے روز میدان میں اتری اور اب اسے جمعرات کو کلاسیفکیشن میچ بھی کھیلنا ہے۔
اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے پاکستانی ٹیم منتخب کرنے والی سلیکشن کمیٹی کے رکن اور سابق اولمپئن سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم مکمل فٹ نہیں ہے اس کے برعکس کورین ٹیم سپر فٹ تھی جس نے ظاہر ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ ملائیشیا سے ہارنے کے بعد اہم میچ کھیل رہی ہے۔
سمیع اللہ نے کہا کہ یہ شکست دراصل ٹیم منیجمنٹ کے لئے ٹیسٹ کیس ہے۔ ان سائیڈز، فارورڈز اور ڈیپ ڈیفنس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
سابق گول کیپر منصوراحمد کے خیال میں اس ٹیم کو نئی ٹیم کہنا غلط ہوگا۔ ہر نئی منیجمنٹ یہ دعوی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامکمل میچ کی وجہ سے کورین ٹیم نے ردھم حاصل کیا اور وہ دباؤ سے نکل آئی۔
منصوراحمد نے کہا کہ ٹیم کو اب بھی دو تین سینئر تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیم سلیکشن میرٹ پر ہونی چاہئے۔