Tuesday, 08 May, 2007, 20:20 GMT 01:20 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اوپنر عمران فرحت کے اس اقدام کا سختی سے نوٹس لیا ہے جس میں وہ ٹیم میں منتخب نہ کئے جانے پر چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو کو فون کر کے وجہ معلوم کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں جبکہ عمران فرحت کے سسر سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس نے بھی اپنے داماد کا سلیکشن نہ ہونے پر مبینہ طور پر سلیکٹرز سے تلخ کلامی کی ہے۔
ابوظہبی میں سری لنکا کے خلاف ہونے والی ون ڈے سیریز کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں اپنا نام نہ پاکر عمران فرحت نے چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو کو فون کیا اور ان سے ٹیم میں شامل نہ کئے جانے کی وجہ پوچھی۔ صلاح الدین صلو نے اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے صورتحال سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو مطلع کردیاہے۔
صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ان کے لئے غیرمتوقع تھی کہ کوئی بھی کھلاڑی ٹیم میں شامل نہ ہونے پر اس طرح کا انداز اختیار کرسکتا ہے۔
صلاح الدین صلو نے بتایا کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس نے بھی ٹیم کے اعلان کے بعد کمرے میں آکر سلیکٹرز سے عمران فرحت کو منتخب نہ کئے جانے پر بدتمیزی کی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر احسن حمید کا کہنا ہےکہ چیف سلیکٹر کی طرف سے تحریری شکایت کی صورت میں بورڈ عمران فرحت کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے۔
صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ عمران فرحت کو ٹیم میں منتخب نہ کرنے کا فیصلہ متفقہ تھا کیونکہ ان کی حالیہ کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے۔
عمران فرحت نے آخری بیس ٹیسٹ اننگز میں صرف پانچ اور آخری بیس ون ڈے اننگز میں محض دو نصف سنچریاں بنائی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی محمد الیاس اپنے داماد کو ٹیم سے ڈراپ کئے جانے پر سلیکٹرز سے تلخ کلامی کرتے رہے ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاسکا ہے۔
محمد الیاس پاکستان کی طرف سے دس ٹیسٹ کھیلے ہیں لیکن ان کے نامناسب رویئے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عبدالحفیظ کاردار نے انہیں73-1972 کے دورۂ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم سے الگ کردیا تھا۔