پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان شعیب ملک نے کہا ہے کہ ان کی بھرپور کوشش ہوگی کہ ان کی قیادت میں ٹیم اٹیکنگ (جارحانہ) کرکٹ کھیلے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔
بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ میں لوگوں کے سوالوں کے براہ راست جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’ٹیم کے ہر کھلاڑی کی کوشش ہو گی کہ اپنی صلاحیتوں کا سو فیصد مظاہرہ کرے‘۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کی بری کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کے حوصلے پست ہیں یہ اس وقت بلند ہونگے جب ٹیم جیتے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے سینئر اور جونیئر ارکان میں کوئی فرق نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سینئر کھلاڑیوں محمد یوسف، یونس خان اور شاہد آفریدی کے مقابلے میں وہ کوئی زیادہ جونیئر نہیں ہیں ’بس ایک دو سال کا ہی فرق ہے، مجھے بھی (قومی ٹیم کے ساتھ) کھیلتے ہوئے اب آٹھ سال ہوگئے ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ کپتان نامزد ہونے کے بعد ٹیم کے سینئر اور جونیئر تمام کھلاڑیوں نے انہیں مبارکباد دینے کے لیے فون کیے اور اپنے تعاون کا یقین دلایا۔
اسی طرح انہوں نے اس بات سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا کہ میچ فکسنگ بھی کوئی چیز ہے۔
(تاہم یاد رہے کہ سال 2005 میں ڈومیسٹِک کرکٹ کے پہلے ٹوئنٹی 20 کپ میں اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کی قیادت کرتے ہوئے شعیب ملک کو جان بوجھ کر ایک میچ ہارنے پر پی سی بی کی طرف سے ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی اور دو ایک روزہ میچوں کی 75 فیصد فیس ضبط ہونے کی سزا کا سامنا کرنا پڑا تھا)۔
شعیب ملک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستانی ٹیم افتتاحی (اوپننگ) بلے بازوں کے مسئلے کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلے بازوں کی افتتاحی جوڑی میں اگر ایک دائیں ہاتھ اور دوسرا بائیں ہاتھ سے کھیلنا والا ہو تو مدمقابل ٹیم کے لیے مشکل صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افتتاحی بلے بازی کا مسئلہ اس وقت حل ہوگا جب کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کو پورا موقع دیا جائے۔
شعیب اختر کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے نئے کپتان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے بالر ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ ’وہ ٹریننگ کر رہے ہیں، پاکستان کو ان کی ضرورت ہے اور وہ جلد ہی ٹیم کا حصہ ہونگے‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی طے نہیں کیا کہ وہ کس نمبر پر بیٹگ کیا کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ان کا کوئی مخصوص نمبر نہیں تھا اور میچ کی صورتحال کے مطابق انہیں میدان میں اتارا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ناقدین کو کھلاڑیوں کی نمازوں یا مذہبی رحجان پر تنقید کرنے کی بجائے ان کے کھیل پر بات کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نماز ہر مسلمان پر فرض ہے اور کوئی مسلمان اگر اسلام پر تنقید کرتا ہے تو اس بڑی شرمناک بات کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
اس سوال کے جواب میں کہ پاکستانی ٹیم جس جوش سے بھارت کے خلاف کھیلتی ہے وہ جذبہ دوسری ٹیموں کے ساتھ کھیلتے ہوئے نظر نہیں آتا، شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ ہر ٹیم کے خلاف جیت کے جذبے کے ساتھ کھیلا جائے۔
پاکستان میں کرکٹ کے معاملات عمران خان کے حوالے کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ان سے کہی جائے جو اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ’میرا کام صرف میدان سے متعلق ہے‘۔
کوچ کے ملکی یا غیر ملکی ہونے کے سوال کا جواب دینے سے انہوں نے معذرت کر لی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیم کی فیلڈنگ بہتر کرنے کے لیے امریکہ سے بیس بال کے ایک کوچ کو بلا رہا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انگریزی نہ بول سکنے پر پاکستانی کھلاڑیوں کو شرمندہ ہونے کی بجائے اپنی مادری زبان بولنے پر فخر کرنا چاہیے۔ ’فٹ بال کے کھلاڑی مترجم کے ذریعے بات کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے‘۔
شادی کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گھر والے لڑکی تلاش کر رہے ہیں۔