Sunday, 29 April, 2007, 13:05 GMT 18:05 PST
میچ ریفری جیف کرو نے اعتراف کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے فائنل کے آخر میں ان کی اور ایمپائروں کی غلطی کی وجہ سے مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔
جب سری لنکا اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے اس میچ کے دوران شام ہونے کے سبب روشنی بہت کم ہوگئی اور تین اوور باقی تھے تو انہیں کہا گیا کہ اب یہ میچ کل ختم کیا جائے گا۔
لیکن دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے اصرار کیا کہ اندھیرے میں ہی کھیل ختم کیا جائے ۔کرو نے اعتراف کیا کہ 20 اوور کا میچ مکمل ہونے کی وجہ سے تکنیکی طور پر تو میچ ختم ہو گیا تھالیکن کنٹرول ٹیم کی حیثیت سے یہ ہماری غلطی تھی۔
بعد میں سری لنکا کے کپتان مہلا جے وردھنے نے کہا کہ انہیں ضابطے کا علم تھا لیکن ایمپائروں کا اصرار تھا کہ ہمیں اتوار کو کھیلنا ہوگا۔
جیف کرو نے کہا ’خود ہم لوگ بھی کنفیوز تھے کہ صحیح سمت کیا اور ہم یہ میچ کیسے کھیلیں گے‘۔انہوں نے کہا ’مجھے ضابطوں کا علم ہونا چاہیے تھا اور اس موقع پر کھیل روک دیا جانا چاہئیے تھا۔
یہ ایک غلطی ہے میچ کے دوران ہم لوگ زیادہ تر آڈیو سسٹم کے ذریعے بات کرتے ہیں اور کبھی کبھی کوئی ایک آواز سنائی دیتی ہے کہ ’مجھے ضابطے کا علم ہے‘ اور اس کے بعد آپ کنفوز ہو جاتے ہیں اور جب آپ کنفیوز ہوں تو کوئی بھی دوسرے کی بات کو غلط کہنا ٹھیک نہیں لگتا‘۔
’مجھے ضابطے کا علم ہونا چاہئیے تھا اور کھیل کو وہیں روک دینا چاہیے تھا‘۔
کرو نے کہا کہ وہ استعفی نہیں دیں گے اور اور آف فیلڈ ایمپائر روڈی کورٹزین کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھرانے سے انکار کر دیا۔
نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کرو نے کہا کہ ’کیا یہ معاملہ استعفے کا ہے امید ہے کہ بات یہ نہیں ہے ‘ ۔
کرو کا کہنا تھا کہ ’جو بھی ہوا وہ میری ذمہ داری ہے اور ہم ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں میں اس بات کو پھر دہراتا ہوں کہ اس موقع پر کئی آوازیں آئیں کہ صحیح طریقہ کیا ہے۔اور یہ ایک اجتماعی فیصلہ تھا۔