http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 26 April, 2007, 19:46 GMT 00:46 PST

شفیع نقی جامعی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، باربیڈوس

الوداع سے پہلے ہی الوداع

نیلے سمندر کے ساتھ واقع خوبصورت جزائر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ورلڈ کپ کے اب الوداعی نظارے ہیں لیکن کرکٹ کا یہ عالمی کپ اپنے الوداع سے پہلے ہی کئی کپتانوں اور کوچز کو الوداع ہوتے دیکھ چکا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ باب وولمر نے تو زندگی کو ہی الوداع کہہ دیا۔ ان کی موت پر پولیس کہتی ہے کہ یہ قتل ہے اور وہ ابھی تک اس معاملے کی تہہ تک پہنچتے ہوئے قاتل یا قاتلوں کی تلاش میں ہے۔

بھارتی ٹیم کی شکست کے بعد آسٹریلوی کوچ گریگ چیپل نے اپنے دیس کی راہ لی۔ ویسٹ انڈیز اس عالمی کپ کا میزبان ہے لیکن میزبان ٹیم بھی فیصلہ کن مرحلے سے پہلے ہی باہر ہوئی تو کوچ بینٹ کنگ نے بھی استعفی آگے بڑھا دیا۔
انگلینڈ کے کوچ ڈنکن فلیچر نے بھی یہی کچھ کیا۔ بنگلہ دیشی کوچ ڈیو واٹمور کے مستقبل کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے۔
انضمام الحق
انضمام کپ کو الوداع کہتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے

جہاں تک کپتانوں کا تعلق ہے تو ویسٹ انڈیز کے کپتان برائن لارا نے نہ صرف ون ڈے بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کو بھی خیرباد کہنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کے انضمام الحق نے کپتانی کے ساتھ ساتھ ون ڈے کرکٹ سے الوداع لی ہے اور نیوزی لینڈ کے اسٹیفن فلیمنگ نے بھی ایک روزہ میچوں کی کپتانی کو چھوڑنے کے فیصلے سے دنیا کو آگاہ کر دیا ہے۔

پاکستان کا آئرلینڈ سے ہارکر ورلڈ کپ سے باہر ہوجانا اس ورلڈ کپ کا سب سے بڑا اپ سیٹ تھا۔ اسی طرح بنگلہ دیش سے ہار کر بھارتی ٹیم بھی خالی ہاتھ وطن لوٹی۔ دونوں ملکوں میں کرکٹ سے غیرمعمولی وابستگی اور جنون کا مظاہرہ شکستوں پر خوب سامنے آتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں میں اس کا شدید ردعمل ہوا اور اب اسی کیفیت سے ویسٹ انڈین کرکٹ بھی دوچار ہے کہ کوچ کا استعفی ناکافی سمجھتے ہوئے کرکٹ بورڈ کے بڑوں کو گھر بھیجنے کا عوامی مطالبہ زور پکڑگیا ہے۔

عالمی کپ کی رونقیں سجانے کے لیے چار نئے اسٹیڈیمز بنائے گئے اور تین کی تزئین اور مرمت کی گئی۔

ورلڈ کپ کے موقع پر نو ہزار سے زائد رضاکاروں نے نو اسٹیڈیمز میں خدمات انجام دیں۔ اب وہ اختتامی تقریب کی تیاری میں مصروف ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ اور بھارت سے ایسے ساڑھےتین سو ماہرین بھی آئے ہیں جو جوہری مواد سمیت کسی بھی دہشت گردی سے نمٹ سکتے ہیں۔