Tuesday, 24 April, 2007, 06:10 GMT 11:10 PST
جمیکا میں حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی لاش کو حوالگی میں رکھنے کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے اور اسے کو اب جنوبی افریقہ میں وولمر کے خاندان والوں کو بھجوایا جا رہا ہے۔
اٹھاون سالہ باب وولمر کو اٹھارہ مارچ کو جمیکا کے شہر کنگسٹن میں ان کے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا تھا۔ غصل خانے میں الٹی اور دست کے اثار تھے لیکن بعد میں جمیکا پولیس نے کہا تھا کہ وولمر کو قتل کیا گیا ہے اور قتل کی تفتیش شروع کر دی تھی۔
ان کی موت کے بارے میں پولیس تحقیقات کی سماعت (یعنی ’اِنکویسٹ‘) پیر تئیس مارچ کو ہونی تھی لیکن حکام نے اس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔
برطانوی پولیس سکاٹ لینڈ یارڈ کے چار افسر اس وقت جمیکا میں ہیں جو کہ جمیکہ کی حکومت کی درخواست پر اس تفتیش میں مدد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے بھی دو پولیس افسران کلیم امام اور میر زبیر کو اس تفتیش کے سلسلے میں جمیکا بھیجا گیا ہے۔ فرانس کے بھی دو فورینزِک ماہرین اس تفتیش میں کام کر رہے ہیں۔
جمیکا کی وزارت قومی سلامتی کے بیان کے مطابق لاش کو چھوڑنے کا فیصلہ پولیس کے نائب کمشنر مارک شیلڈز اور کورونر کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔