http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 24 April, 2007, 01:30 GMT 06:30 PST

میچ فکسنگ خارج از امکان: اعجاز بٹ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ابتدائی مرحلے میں ہی ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کے اسباب کا جائزہ لینے والی انکوائری کمیٹی کے سربراہ نے آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پاکستان کی شکست میں میچ فکسنگ کے عنصر کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

انکوائری کمیٹی کے سربراہ اور سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ (تحقیقات کے دوران) ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جن کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ میچ فکسنگ ہوئی۔

آئرلینڈ جیسی نا تجربہ کار ٹیم کے ہاتھوں شکست کے اگلے ہی روز پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان نے انکوائری کمیٹی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ کرکٹ میں ’سپاٹ فکسنگ‘ اب بھی ہوتی ہے۔ اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ تاہم ان کے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

سپاٹ فکسنگ سے مراد لیا جاتا ہے کہ میچ کے دوران بظاہر معمولی معاملات جیسے ایک اوور میں وائڈ بالز وغیرہ کی تعداد پر سٹے بازی کرنا۔

اعجاز بٹ کی سربراہی میں کام کرنے والی تین رکنی انکوائری کمیٹی کرکٹ ٹیم کی مستقبل میں نویں ورلڈ کپ جیسی مایوس کن کارکردگی سے بچنے کے لیے پی سی بی کو تجاویز پیش کرے گی۔

انکوائری کمیٹی کے باقی دو ارکان پی سی بی کے ڈاریکٹر کرکٹ آپریشنز سلیم الطاف اور سابق کھلاڑی صلاح الدین صلو ہیں، جنہیں حال ہی میں قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین بھی بنا دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پی سی بی کے سابق چیئرمین شہریار خان نے یہ کہہ کر انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا کہ بطور ڈاریکٹر کرکٹ آپریشنز سلیم الطاف کو ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی بری کارکردگی کے لیے جوابدہ ہونے چاہیے نا کہ انکوائری کمیٹی کا رکن۔

سلیم الطاف وکیل نعیم بخاری کے بڑے بھائی ہیں، جن کے الزامات پر مبنی ایک خط کو بنیاد بناتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔