Friday, 20 April, 2007, 08:52 GMT 13:52 PST
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ باب وولمر کے قتل کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کسی ’اہم پیش رفت‘ کے بعد ملتوی کردی گئی ہیں۔
سرکاری سطح پر کی جانی والی تحقیقات کے لیے 23 اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی تھی مگر پہلے سے جاری تفتیش سے حاصل ہونے والے خفیہ نتائج کے بعد سرکاری تحقیقات کو ملتوی کردیا گیا ہے۔
جمیکا کی وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ قتل کی تحقیق کرنے والے افسر کو بتایا گیا ہے کہ وولمر کے قتل کے حوالے سے حال ہی میں بڑی ’اہم پیش رفت‘ سامنے آئی ہے۔ وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ وولمر کے قتل کے سلسلے میں جاری تحقیقات کے نتیجہ کے طور پر سامنے آنے والی اس اہم پیش رفت کو پوری طرح سے سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔
وزرات کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نئی ’پیش رفت‘ کے نتائج اس بات کو واضح کریں گے کہ آیا قتل کی سرکاری سطح پر کی جانے والی تحقیقات کو کسی خاص وقت تک روک دیا جائے یا نہیں۔
یہ قیاس ہے کہ انگلینڈ کے سابق بیسٹمین کو گلا گھونٹ کرہلاک کیا گیا ہے۔
وولمر کے قتل کی تفتیش پر معمور پولیس نے سی سی ٹی وی امیجز مزید غور کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کو بھیجے ہیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے چار پولیس افسران پر مشتمل ایک ٹیم قتل کی تحقیقات میں معاونت کے لیے اس وقت جمیکا میں موجود ہے۔ جمیکن حکام نے سکاٹ لینڈ یارڈ سے قتل کی تحقیقات میں معاونت کی باقاعدہ درخواست کی تھی۔
پاکستان بھی اپنے ایک سینئر پولیس اہلکار زبیر محمود کو اس سلسلے میں جمیکا بھیج چکا ہے۔ زبیر محمود امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اور باقی دیگر افسران جمیکن حکومت کی درخواست پر آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انٹرپول کے دو ماہرین بھی قتل کی تحقیقات میں جمیکن حکام کی مدد کر رہے ہیں۔
جمیکا کے ڈپٹی پولیس چیف کمشنر مارک شیلڈ نے بتایا ہے کہ غیرملکی افسران کی تحقیقات اور وولمر کے ڈی این اے کے تجزیے سے ان مفروضوں کی جانچ میں مدد ملے گی کہ آیا وولمر کو گلہ گھونٹے سے قبل زہر دیا گیا تھا یا نہیں۔