http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 19 April, 2007, 16:45 GMT 21:45 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

شعیب ملک کی صلاحیت کا امتحان

پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرز نے شعیب ملک کو کپتان بنائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر کے لئے زبردست چیلنج ہے اور ان کی کامیابی کا انحصار ان کی اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کے تعاون پر بھی ہوگا۔

ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کے بعد قیادت چھوڑ دینے والے انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعیب ملک سے زیادہ سینئر کرکٹرز ٹیم میں موجود ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان سینئر کرکٹرز کی طرف سے شعیب ملک کو مشکلات ہوسکتی ہیں۔ وہ تمام کھلاڑیوں سے بخوبی واقف ہیں۔

انہیں توقع ہے کہ تمام کرکٹرز ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے شعیب ملک کو مکمل سپورٹ کریں گے۔ انضمام الحق نے کہا کہ کپتان کے اعلان میں تاخیر سے مسئلہ پیدا ہوسکتا تھا لیکن کرکٹ بورڈ نے بر وقت اور درست فیصلہ کیا ہے۔ شعیب ملک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ تمام کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں البتہ ایڈجسٹ ہونے کے لئے انہیں کچھ وقت درکار ہوگا۔

سینئر کرکٹرز کے تعاون کے بارے میں سوال پر وقار یونس نے کہا کہ ہر کرکٹر کو نئے کپتان کا ساتھ دینا چاہئے تاہم اس تمام صورتحال میں کوچ کا کردار بہت اہم ہوگا کہ وہ کس طرح شعیب ملک کی رہنمائی کرتا ہے۔

سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں شعیب ملک قیادت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ انہوں نے کپتانی کر رکھی ہے، کاؤنٹی کرکٹ کھیلے ہوئے ہیں اور کرکٹ کا دماغ رکھتے ہیں۔ لہذا ان کی حمایت کرنی ہوگی لیکن ساتھ ہی شعیب ملک پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹیم میں بحیثیت بیٹسمین اپنی جگہ مستحکم بنائیں گے اور کپتانی کی ذمہ داری ملنے کے بعد اپنی کارکردگی بہتر بنائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ کرکٹ کی کپتانی دیگر کھیلوں کے مقابلے میں سب سے مشکل ہے۔ جس کرکٹر نے بھی کپتان بننا تھا اسے اپنے آپ کو منوانا پڑتا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کپتان بنتے ہی پہلے دن سے ہی سب کرکٹرز اس کی عزت کرنے لگ جائیں۔ کپتان کو اپنی کارکردگی دلیری اور کردار سے خود کو منوانا پڑتا ہے۔شعیب ملک اگر یہ صلاحیتیں دکھائیں گے تو ٹیم انہیں مانے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اگر آپ اچھے سے اچھا کپتان لے آئیں لیکن اگر وہ اپنی کارکردگی نہیں دکھاتا تو ٹیم اس کے پیچھے نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کے فرسودہ نظام کی وجہ سے یہاں کپتان اور کسی بھی پوزیشن پر آپ کو متبادل نہیں مل سکتے۔

راشد لطیف نوجوان شعیب ملک کے لئے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ تاہم وہ ان عوامل کو نظرانداز کرنے کے لئے تیار نہیں کہ یونس خان نے کپتانی سے انکار کس وجہ سے کیا؟ اور محمد یوسف کو سینئر ہونے کے باوجود کپتانی کیوں نہیں دی گئی؟ راشد لطیف نے کہا کہ شعیب ملک کو میدان میں اترنے سے پہلے بہت زیادہ ہوم ورک کرنا ہوگا۔

سابق کپتان انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ شعیب ملک کو کپتانی دینے سے کئی سوالات سامنے آئے ہیں کہ کیا ان کی شخصیت اتنی مضبوط ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے مثال قائم کرسکیں ؟ اور یہ کہ کیا وہ کھلاڑی جنہوں نے خود کپتانی کی خواہش ظاہر کی تھی وہ انہیں قبول کریں گے؟

انتخاب عالم نے کہا کہ موجودہ ٹیم میں کوئی بھی کرکٹر کپتانی کی خوبیاں نہیں رکھتا۔ ان کے خیال میں سلمان بٹ میں یہ خوبیاں ہیں لیکن وہ اس وقت ٹیم میں نہیں ہیں۔

انتخاب عالم نے کہا کہ سسٹم کی خرابی کی وجہ سے ہم کبھی بھی مستقبل کے لئے کپتان تیار نہیں کرسکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا شخص بھی چاہئے کہ وہ شعیب ملک کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کی غلطیوں کو درست کرسکے۔