Wednesday, 18 April, 2007, 12:02 GMT 17:02 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
انضمام الحق کی دستبرداری اور یونس خان کے انکار کے بعد شعیب ملک پاکستانی ٹیم کی قیادت کے مضبوط دعویدار بن کر سامنے آئے ہیں جبکہ نائب کپتانی کے لیے حیران کن طور پر فاسٹ بولر محمد آصف کا نام لیا جارہا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کافی دنوں سے جاری کپتانی کی بحث
ختم کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں نئے کپتان کا باضابطہ اعلان کرنے والے
ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق شعیب ملک اور سلمان بٹ کے نام قیادت کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے لیکن معلوم ہوا ہے کہ سلمان بٹ
اس بنا پر اربابِ اختیار کا اعتماد حاصل نہیں کر سکے ہیں کہ ٹیم میں ان کی
جگہ مستقل نہیں بنتی۔
![]() | |
| پاکستان کی آئر لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد انضمام مستعفی ہو گئے تھے |
شعیب ملک پاکستان کی طرف سے137 ون ڈے انٹرنیشنل اور18 ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں۔ وہ ان چند کرکٹرز میں سے ایک رہے ہیں جنہیں سابق کپتان انضمام الحق کا بھرپور اعتماد حاصل رہا۔ متعدد مواقع پر شعیب ملک نے اپنی عمدہ بیٹنگ سے اپنی اہلیت ثابت بھی کی لیکن یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اپنے کریئر کی ابتداء سے آج تک کوئی بھی کپتان اور کوچ ان کے بیٹنگ آرڈر کو حتمی شکل نہیں دے سکا اور وہ ضرورت اور حالات کے بیٹسمین بن کر رہ گئے۔
شعیب ملک ون ڈے انٹرنیشنل میں سوائے گیارہویں نمبر کے تمام بیٹنگ پوزیشن پر بیٹنگ کرچکے ہیں جبکہ ٹیسٹ میں بھی وہ پانچ مختلف بیٹنگ پوزیشنز پر آزمائے جا چکے ہیں۔
شعیب ملک بظاہر ون ڈے کے کارآمد کھلاڑی ہیں جو بیٹنگ کے ساتھ چاق وچوبند فیلڈر اور دس اوورز کی محدود بولنگ کے موزوں بولر سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کی آف اسپن بولنگ مشکوک ایکشن کی درستگی کے بعد اتنی موثر نہیں رہی کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ثقلین مشتاق جیسا کردار ادا کرسکیں۔
شعیب ملک پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا اعتماد اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مستقبل کو نظر میں رکھتے ہوئے کسی نوجوان کو موقع دینا چاہتا ہے لیکن پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے واضح کردیا ہے کہ کپتان کی تقرری سیریز بہ سیریز ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ سری لنکا کے خلاف ابوظہبی سیریز انگلینڈ میں ایک ون ڈے اور ممکن ہوا تو ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ میں شعیب ملک ٹرائل پر ہونگے۔
![]() | |
| انضمام کے مستعفی ہوجانے کے بعد یونس خان نے ٹیم کی کپتانی سے انکار کردیا تھا |
یہ سوال اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ان کی کپتانی میں کھیلنے والے تقریباً تمام ہی کھلاڑی خود کپتان بننے کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں ایسے میں وہ شعیب ملک کو کس طرح کپتان قبول کریں گے۔
ماضی میں یہ کئی بار دیکھا جاچکا ہے کہ سینئرز کرکٹرز کی جانب سے جونیئر کپتان کو قبول نہ کرنے کا خمیازہ بغاوت کی صورت میں ٹیم کو بھگتنا پڑا۔