Sunday, 15 April, 2007, 14:03 GMT 19:03 PST
سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گرینیڈا، ویسٹ انڈیز
ہندوستان اور پاکستان کی ٹیمیں بھلے ہی عالمی کپ سے باہر ہوگئی ہوں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ویسٹ انڈیز کے میدانوں پر ہندوستانی اور پاکستانی کھلاڑی اپنے جوہر نہیں دکھا رہے۔
مجھے پتا چلا کہ یہاں گرینیڈا میں رہنے والے کچھ ایشینز پچیس پچیس اوورز کا میچ کھیل رہے ہیں تو میں بھی دیکھنے جاپہنچا۔
دیکھا کہ دو انٹرنیشنل امپائرز علیم ڈار اور اسد رعوف بھی میدان پر موجود تھے۔ لیکن امپائرنگ کے لیے نہیں بیٹنگ اور بولنگ میں اپنے جوہر دکھانے کے لیے۔
دونوں ٹیمیں ہندوستانی کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں، کوئی اپنی بیکری بند کرکے آیا تھا تو کوئی مچھلی بازار میں اپنی دکان۔ ایک ٹیم نے علیم ڈار کو شامل کر لیا اور دوسری نے اسد رعوف کو۔میدان پر بین الاقوامی امپائرز ضرور موجود تھے لیکن رولز مقامی تھے۔
ابراہیم دادا ایک ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے۔ انہوں بتایا کہ تیز ہوا کی وجہ سے وکٹوں پر بیلز استعمال نہیں کرتے اور لیگ بفور وکٹ یا ایل بی ڈبلو آؤٹ نہیں مانا جاتا کیونکہ ’ ہم گجراتی چھوٹی چھوٹی باتوں پر کچھ کچھ بہت کرتے ہیں اور ایل بی ڈبلوپر ہمیشہ لڑائی ہو جاتی ہے‘۔
![]() | |
| ہندوستانی اور پاکستانی ساتھ ساتھ کھیل رہے تھے |
علیم ڈار اس میدان پر پہلے بھی ایک میچ کھیل چکے تھے جس میں انہوں نے پچپن رن بنائے تھے۔ میں نے پوچھا امپائر سے کچھ سانٹھ گانٹھ کر رکھی ہے کیا؟
جواب ملا ’میں آئی سی سی کے پینل کا امپائر، کچھ تو خیال کریں گے میرا!‘
کرکٹ کا میچ ہو، کوئی کھلاڑی رن آؤٹ ہو جائے اور بے ساختہ ہی انضمام کا ذکر نہ ہو، ایسا مشکل ہی ہے۔ ’ ارے بھائی انضمام سے سبق سیکھو، ایک رن سے زیادہ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘
دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ میچ گرینیڈا کی فوج کے گراؤنڈ پر کھیلا گیا۔
ہندوستانی اور پاکستانی ساتھ ساتھ کھیل رہے تھے اور کھیل کا معیار بھی مجھے تقریباً ویسا ہی لگا جیسا دونوں ملکوں کی قومی ٹیموں نے یہاں ورلڈ کپ میں دکھایا تھا۔