Tuesday, 10 April, 2007, 00:11 GMT 05:11 PST
سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گرینیڈا، ویسٹ انڈیز
ون ڈے کرکٹ میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم جنوبی افریقہ کو ہرا کر بنگلہ دیش نے ان ٹیموں کو سیمی فائنل میں پہچنے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے جو ٹورنامنٹ سے تقریباً باہر ہوچکی تھیں۔
منگل کو جب گرینیڈا میں میزبان ویسٹ انڈیز کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف میدان میں اترےگی، تو اس کے سامنے دو چیلنج ہوں گے۔
ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ اکیس ایک روزہ میچوں میں صرف پانچ میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ فکر کی بات شاید یہ ہوگی کہ سن دو ہزار پانچ میں جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو اس کے اپنے ہی میدانوں پر صفر کے مقابلے میں پانچ میچوں سے ہرایا تھا۔
جنوبی افریقہ کے لیے بھی یہ میچ جیتنا بہت اہم ہے اگرچہ شکست کی صورت میں بھی اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات باقی رہیں گے لیکن میزبان ٹیم اگر ہاری تو مقابلے سے باہر ہو جائے گی۔
وکٹ اور ٹاس جیتنے والی ٹیم |
ویسٹ انڈیز کی کوشش ہوگی کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سپنرز کو اسی انداز میں استعمال کریں جیسے بنگلہ دیش نے کیا تھا۔ ویسٹ انڈیز کے بیٹس مین دنیش رام دین کا خیال ہے کہ اگر وہ پہلے بیٹنگ کرکے دو سوساٹھ ستر رن بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو حریف ٹیم پر دباؤ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ بعد میں بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کا ریکاڈ زیاہ اچھا نہیں۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے فاسٹ بولر اینڈریو نیل کا کھیلنا تقریباً طے ہے کیونکہ انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف پانچ وکٹ لیے تھے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ مکھایا نتینی یا شان پولک کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہرشل گیز زخمی ہیں اور آج نہیں کھیل پائیں گے۔
گرینیڈا کا سٹیڈیم بالکل نیا ہے اور اس وکٹ پر یہ پہلا میچ ہوگا۔ لہذا وکٹ کیسا ثابت ہو گی اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ماہرین کے مطابق صبح صبح اس میں نمی ضرور ہوگی، اور جو بھی ٹیم ٹاس جیتے گی وہ پہلے بولنگ کرنا پسند کرےگی۔