Monday, 09 April, 2007, 21:17 GMT 02:17 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اصلاح الدین اور منظور الحسن پر اس وقت پاکستانی ہاکی ٹیم کی تشکیل اور اسے وننگ کامبی نیشن میں تبدیل کرنے کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان دونوں سابق اولمپئنز کو بیجنگ اولمپکس تک پاکستانی ہاکی ٹیم کا منیجر اور کوچ مقرر کیا جاچکا ہے اور آئندہ ماہ اپوہ ملائشیا میں منعقد ہونے والا سولہواں اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔
منظورالحسن اور اصلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ بیجنگ اولمپکس تک ایک متوازن ٹیم کی تشکیل کی ذمہ داری کو پورا کر سکیں۔
منظورالحسن نے کہا کہ وننگ کامبی نیشن راتوں رات تیار نہیں ہوجاتا اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ پاکستانی ہاکی کو اس وقت جس صورتِ حال کا سامنا ہے اس میں متوازن ٹیم تیار ہونے میں وقت لگے گا۔ مشکل کام ضرور ہے لیکن وہ پرعزم ہیں۔
منظور الحسن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ کھلاڑیوں کا بیک اپ تیار کیا جائے تاکہ جب سینئر کھلاڑیوں کے جانے کا وقت ہو تو متبادل کھلاڑی ان کی جگہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ میں کسی سینئر کھلاڑی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور جو بھی اچھی کارکردگی دکھائے گا وہ منتخب ہوگا۔
پھر نہ وہ نظر رہی اور نہ وہ ٹیلنٹ |
ٹیم کے منیجر اصلاح الدین نے کہا کہ موجودہ حالات میں فوری طور پر اچھے نتائج حاصل نہیں ہوسکتے اس کے لیے محنت اور نتائج کے لیے صبر ضروری ہے لیکن انہیں پوری امید ہے کہ وہ موجودہ کھلاڑیوں میں سے اچھی ٹیم تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اصلاح الدین نے کہا کہ فوری طور پر فزیکل فٹنس پر بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل عباس کو بھی ورلڈ کلاس کھلاڑی بننے میں وقت لگا تھا۔ ان کی نظر میں کچھ اچھے کھلاڑی ہیں جن میں سے کسی کا سکوپ اور کسی کی ہٹ بہت اچھی ہے ان کھلاڑیوں پر محنت کرنی ہوگی۔ فارورڈز گول کرنے کے سنہری مواقع ضائع کرتے رہے ہیں اس خامی کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان نے آٹھ ٹیموں میں پانچویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہ ٹورنامنٹ ہالینڈ نے جیتا تھا جس نے فائنل میں اولمپک چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دی تھی جبکہ تیسری پوزیشن کے میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو ہرایا تھا۔