http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 02 April, 2007, 20:24 GMT 01:24 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

افسران منگل کو جمیکا جائیں گے

پاکستان کے دو تحقیقاتی افسر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی موت کے سلسلے میں تحقیقات کے دوران موجود رہنے کے لیے منگل کو جمیکا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف چار اپریل کو کیپ ٹاؤن میں باب وولمر کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے جنوبی افریقہ روانہ ہونے والے ہیں۔

باب وولمر کی یاد میں لاہور میں تقریب
لاہور میں ہونے والی تقریب کی تصویریں

ان دو تحقیقاتی افسروں میں سے ایک میر زبیر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ہیں اور دوسرے کلیم امام ہیں جن کا تعلق ایف آئی اے سے ہے۔ اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل تیسرے فرد اسد مصطفیٰ ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے ساتھ رہیں گے۔

تحقیقاتی افسروں کو جمیکا بھیجنے کا فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے۔ ان سے پہلے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے دو افسران بھی جمیکا میں ہونے والی تحقیقات کے دوران موجود رہے ہیں۔

ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر پی جے میر نے پیر کو کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تحقیقاتی افسروں کا کردار محض مبصر کا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کا وہاں جانا قابل فہم ہے کیونکہ باب وولمر پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے ’لیکن کسی دوسرے کو آپ لے جاکر وہاں بٹھارہے ہیں کہ آپ بھی آبزرور کے طور پر کام کریں تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

واضح رہے کہ جمیکن پولیس کی درخواست پر سکاٹ لینڈ یارڈ کے تحقیقاتی افسر بھی وہاں موجود ہیں۔

پی جے میر نے یہ بھی بتایا کہ باب وولمر کی موت کی تحقیقات کے سلسلے میں امریکی سی آئی اے کے ایک افسر بھی جمیکا آئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس معاملے میں ’سسپیکٹ‘ نہیں ہے۔ ’اگر ایسی کوئی چیز ہوتی یا سامنے آئی تو وہ ہمیں ابھی بھی بلاسکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جب تک پیتھالوجسٹ کی حتمی رپورٹ نہیں آجاتی اس معاملے پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ’اس ضمن میں بھارتی میڈیا نے انتہائی منفی انداز اختیار کیا اور سنسنی پھیلائی۔ ایسا لگا کہ جیسے یہ میڈیا ٹرائل ہورہا ہے۔‘

پی جے میر کا کہنا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ میڈیکل افسر نے باب وولمر کے معاملے کو صحیح ہینڈل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ باب وولمر نے ان سے اپنی جس کتاب کے مسودے کی گمشدگی کی بابت بات کی تھی وہ کتاب کوچنگ سے متعلق تھی۔