Thursday, 29 March, 2007, 02:25 GMT 07:25 PST
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کے قتل نے ویسٹ انڈیز میں جاری ورلڈ کپ کو گہُنا دیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کے آئرلینڈ جیسی نو آموز ٹیم کے ہاتھوں شکست کے اگلے روز وولمر پیگیسز ہوٹل میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔
پاکستان کی اس شکست کے بعد بی بی سی کے کھیلوں کے نامہ نگار ایلیسن مچل نے باب وولمر کا انٹرویو ریکارڈ کیا تھا، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آنجہانی وولمر کا میڈیا کو دیا گیا آخری انٹرویو تھا۔ ذیل میں اس انٹرویو کا مکمل ترجمہ دیا جا رہا ہے۔
سوال: آئرلینڈ سے ہارنے کے بعد آپ کیا سوچ رہے ہیں؟
جواب: ہم نے بہت بری بلے بازی کی، واقعی۔ غلطی پر غلطی کرتے چلے گئے اور صورتحال خراب ہوتی گئی۔ نتیجاً ہم 40 سے 50 مزید رنز بنائے بغیر آؤٹ ہوگئے۔
یہ افسوسناک ہے، کیونکہ اڑھائی یا تین سال کی محنت ضائع گئی ہے اور اس طرح کا نتیجا سامنے آنا تو اور بھی مایوس کن ہے۔
سوال: ذاتی طور پر آپ اس بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟
جواب: میں نے کرکٹ میں کئی برے دن دیکھے ہیں، لیکن مجھے پاکستانی شائقینِ کرکٹ کی فکر ہے جو ہم سے اچھی کارکردگی کی توقع کر رہے تھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ معذرت کرنے کے سوا میں کیا کہہ پاؤں گا، کیونکہ ہمیں اگلے مرحلے میں پہنچنا چاہیے تھا۔
میرا خیال ہے کہ ہم اگلے مرحلے میں پہنچ جاتے تو ہمارے مزید آگے بڑھنے کے کافی امکانات تھے۔ لیکن دباؤ نے کام دکھایا اور ہم اگلے مرحلے تک ہی نہیں جا پائے۔
سوال: گزشتہ ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے (ناکامی کے اسباب جاننے کے لیے) تحقیقات کرائی تھیں جس کے نتیجے میں کئی تبدیلیاں سامنے آئیں، آپ اپنا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟
میں (اب) بین الاقوامی کرکٹ کو جاری نہیں رکھنا چاہتا اور اس کی وجہ صرف مسلسل سفر میں رہنا ہے۔ میں کوچنگ سے منسلک رہونگا، اگرچہ کسی اور سطح پر۔ لیکن میرا خیال ہے میرا فیصلہ ہو چکا ہے۔
سوال: ’ہو چکا ہے‘، اس کا مطلب ہے آپ معاہدہ ختم ہونے سے پہلے ہی چھوڑ رہے ہیں؟
جواب: نہیں، میں پی سی بی سے بات کرونگا، (دیکھتے ہیں) وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ اگر وہ چاہیں گے کہ میں چھوڑ دوں تو میں چھوڑ دونگا۔ اگر وہ چاہیں گے کہ میں رہوں تو میں تیس جون تک کام کرتا رہونگا۔
لیکن میں نے معاہدہ کیا ہوا اور میں اس کی خلاف ورزی نہیں کرونگا، لیکن اگر پی سی بی مجھ سے جان چھڑانا چاہے گا تو اس کی مرضی۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں تھوڑا انتظار کرونگا اور دیکھونگا کہ میں آئندہ کرکٹ کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔
آپ جانتے ہی ہیں پچھلے چھ ماہ میں غیر معمولی حالات رہے ہیں، جنہوں نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کو دوسری ٹیموں کی کوچنگ سے مختلف بنا دیا ہے۔ چنانچہ یہ عوامل ہیں جو مجھے ذہن میں رکھنا ہونگے۔ بہت سی چیزیاں بدلنا ہونگی، بہت ساری چیزیں، اگر مجھے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ جاری رکھنا ہے۔
لیکن فی الحال یہ پاکستان کی کرکٹ کے افسوسناک لمحات ہیں۔ میں اس کا حصہ ہوں، میں اس کے بارے میں اچھا محسوس نہیں کر رہا ہے۔ کل سے ہمیں خود کو اکٹھا کرنا ہے اور آگے کی طرف دیکھنا ہے۔
سوال: اگر پی سی بی کہتا ہے کہ آپ کام جاری رکھیں تو کیا آپ اس طرف مائل ہو نگے؟
میں مایوسی والے دن زیادہ فیصلے نہیں کرتا، کیونکہ ان کے منفی ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، جو کہ آپ نہیں چاہتے اور اپنے مستقبل کے بارے میں منفی فیصلے کرنا کوئی صائب عمل نہیں ہے۔
میں پی سی بی کے چیئرمین سے بات کرونگا اور دیکھونگا وہ کیا چاہتے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے، میں اب تقریباً 60 سال کا ہو گیا ہوں، یا 59 کا، میں کوچنگ کے بارے میں سوچونگا، کیونکہ میرے پاس علم اور تجربہ ہے جو میں دوسروں تک پہنچانا چاہونگا۔
میں مشاورت (کنسلٹینسی) کا کام کرنا چاہونگا، میں یہ برطانیہ میں کرنا چاہونگا، میں ہر اس شخص کی مدد کرنا چاہونگا جو اپنے کرکٹ کیریئر میں میری مدد درکار ہوگی۔
ایک کوچ کے نقطۂ نظر سے میرا نہیں خیال کہ میں اب کوئی ورلڈ کپ جیت پاؤنگا، کیونکہ جب تک اگلا ورلڈ کپ آئے گا میں 63 سال کا ہو چکا ہونگا اور تب جسمانی طور پر مستعد رہنا شاید ممکن نہ ہو۔
جواب: نہیں، نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں، میں کوچنگ جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اب کوچز کی کوچنگ کی جائے، ان لوگوں کی کوچنگ کی جائے جو دوبارہ کھیلنا چاہتے ہیں۔
میں اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور اسے پسند کرتا ہوں۔ میں آجکل اس کھیل کے بارے میں لکھ رہا ہوں، میں اسے جاری رکھنا چاہونگا، شاید کچھ ریڈیو کمنٹری یا ایسا ہی کوئی کام بھی کروں کسی دن، لیکن کون جانتا ہے (کل کیا ہو)۔
لیکن جیسا کہ میں نے کہا میں (مستقبل کے بارے میں) بعد میں سوچونگا، کیونکہ آج میرے لیے مایوسی کا دن ہے۔
سوال: ایسا لگتا ہے کہ آپ فیصلہ کر چکے ہیں، آپ شاید اس بارے میں پہلے ہی سے سوچ رہے تھے؟
جواب: ہاں، میں نے کچھ طے کر لیا ہے لیکن پہلے مجھے ذرا انتظار کرنے دو۔