http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 27 March, 2007, 10:09 GMT 15:09 PST

اشتہاری کمپنیوں کو نقصان کا اندیشہ

کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے ہی راؤنڈ میں انڈین کرکٹ ٹیم کے باہر ہونے کے بعد ایک غیر سرکاری اندازے کے مطابق ہندوستان کی معیشت کو تقریباً ساڑھے تین کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

یقینی طور پر یہ پتہ لگانا تو ابھی مشکل ہے کہ ٹی وی چینلز، اشتہاری اور ٹریول ایجنسیوں کو کتنا نقصان ہوا ہے۔

بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ جس ٹیم نے 1985 کے بعد برصغیر کے باہر کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیتا ہو اس پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کا کیا مطلب ہے؟

مقبول کرکٹ ویب سائٹ ’ کرک انفو‘ کے مدیر سنبیت بل نے گزشتہ ہفتے لکھا تھا کہ:’ہندوستان کے باہر ہونے کے بعد ورلڈ کپ میں سرمایہ لگانے والے ٹیلی ویژن چینلز اور سپانسرز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے‘۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں غیر متوقع الٹ پھیر کا سب سے زیادہ اثر اس ٹورنامنٹ کے نشریاتی حقوق رکھنے والے ٹی وی چینل
’سونی انٹرٹینمنٹ‘ کو پہنچنے کی توقع ہے۔

اشتہاری صنعت کے ذرائع کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران ٹی وی پر دس سیکنڈ کے ایک اشتہار کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے تھی جس میں اب ایک تہائی کمی آئی ہے۔

گروپ میچوں کی مناسبت سے ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ سپر ایٹ میں پندرہ اپریل کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مقابلہ ہوگا اور اطلاعات کے مطابق اس میچ کے لیے سونی ٹی وی نے دس سیکنڈ کی اشتہاری ’سلاٹ‘ چار لاکھ روپے میں فروخت کی تھی تاہم اب اشتہاری کمپنیاں تمام ٹی وی چینلز سے پیسے لوٹانے کا مطالبہ کریں گی۔

ورلڈ کپ کے چار عالمی سپانسرز میں سے ایک پیپسی نے ہندوستانی ٹیم کے حوصلوں کو بلند رکھنے کے لیے جاری ایک اشتہار سے ہاتھ کھیچنے کا فیصلہ
کیا ہے۔ اس اشتہار کا مرکزی خیال تھا: ’لڑوگے تو جیتوگے‘۔

پیپسی کے ایک بڑے اعلیٰ اہلکار نے ’اکانومک ٹائمز‘ نامی اخبار کو بتایا ہے کہ’اب اس مہم کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ اس لیے ہم اسے واپس لے رہے ہیں اور اس کے بدلے کوئی اور مناسب مہم چلائیں گے‘۔ اس کے ساتھ ’ویزا‘ اور ’ریبوک‘ سمیت کئی کمپنیاں کرکٹ سے متعلق اشتہارات پر دوبارہ غور
کر رہی ہیں۔ کئی کمپنیاں ورلڈ کپ کے دوران اپنی بعض مصنوعات کو بازار میں لانا چاہتی تھیں جس کا ارادہ انہوں اب ترک کر دیا ہے۔

ورلڈ کپ کے آغاز کے موقع پر کرکٹ پر لکھی جانے والی کئی کتابیں بازار میں آئیں تھیں۔ ان کتابوں کو دکاندار اب ہٹا رہے ہیں کیونکہ انہیں خریدنے میں کوئی بھی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہا ہے۔

انڈین کرکٹ ٹیم کے عالمی کپ سے باہر ہونے کے بعد کرکٹ کے چار ہزار شائقین جو ویسٹ انڈیز جاکر میچ دیکھنے والے تھے، ان کی تعداد بھی اب شاید آدھی ہی رہ جائے۔