Monday, 26 March, 2007, 22:59 GMT 03:59 PST
پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان یونس خان وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ورلڈ کپ کے پہلے ہی مرحلے میں مقابلے سے باہر ہونے والی اپنی ٹیم کے وہ پہلے کھلاڑی ہیں جو ویسٹ انڈیز سے پاکستان پہنچے ہیں۔
یونس خان پیر کی رات کراچی کے قائد اعظم ایئرپورٹ پر پہنچے تو صحافیوں اور کرکٹ کے چند پرستاروں نے ان کا استقبال کیا۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کو ایک ڈراؤنا خواب سمجھتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو اب بس آگے کی طرف دیکھنا ہے۔ ’زندگی نے آگے بڑھنا ہے، لیکن ورلڈ کپ کی مایوسیاں کبھی بھی بھلائی نہیں جا سکیں گی ۔۔۔ بہرحال ہمیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے‘۔
یونس خان نے افسوس کے ساتھ کہا کہ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس سے قبل دبئی میں خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹیم میں کوچ باب وولمر کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ ’وہ میرے لیے باپ جیسی حیثیت رکھتے تھے‘۔
یونس خان نے کہا کہ وہ وولمر کے ساتھ ہر بات کر لیا کرتے تھے۔ ’ورلڈ کپ سے باہر ہونا بہت مایوس کن ہے، لیکن وولمر کی موت تو بالکل بھیانک خواب ہے‘۔
یونس خان کے مطابق وولمر نے ان کی کارکردگی بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ’وہ چاہتے تھے کہ میں کیپ ٹاؤن (جنوبی افریقہ) میں ان کی مجوزہ کرکٹ اکیڈیمی میں بھی ان کے ساتھ کام کروں‘۔
انضمام الحق کے استعفے کے بعد یونس خان پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کے سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کے باقی کھلاڑی بدھ کو لندن سے کراچی پہنچیں گے۔