http://bbc.com.im/urdu/

شفیع نقی جامعی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کنگسٹن

پیگیسز ہوٹل پر میڈیا کی یلغار

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر جمیکا پیگیسز ہوٹل کی بارہویں منزل پر واقع کمرہ نمبر 374 میں مردہ پائے گئے تھے۔ پاکستان کے علاوہ ویسٹ انڈیز، زمبابوے اور آئرلینڈ کی ٹیمیں بھی اسی ہوٹل میں قیام پذیر تھیں۔

ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے کے بعد پیگیسز ہوٹل کھلاڑیوں سے تو خالی ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان اور زمبابوے کی ٹیمیں عالمی کپ سے باہر ہونے کے بعد اپنے اپنے وطن سدھار گئی ہیں جبکہ آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں سپر 8 مقابلوں کے لیے اگلے میدانوں کی طرف جانکلی ہیں، لیکن میڈیا کی توجہ اب کھیل کے میدان سے زیادہ اسی ہوٹل پر مرکوز ہیں۔

پولیس کے اس انکشاف کے بعد کہ وولمر کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ہے، پیگیسز ہوٹل کے اندر اور باہر دنیا بھر سے ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافی اور ان کا امدادی عملہ ہر وقت چوکس نظر آتا ہے۔ کیمرہ لائٹس تیار ہوتی ہیں، جنہیں روشن کرنے کے لیے صرف بٹن دبانے کی دیر ہوتی ہے۔

بارھویں منزل پر مقتول باب وولمر کا کمرہ مقفل کر دیا گیا ہے اور اطراف میں سکیورٹی اہلکار کھڑے نظر آتے ہیں۔ وولمر قتل کیس کے حوالے سے پولیس کو جب بھی اخباری کانفرنس کرنا ہوتی ہے تو اسی ہوٹل کا رخ کیا جاتا ہے۔

وولمر کی لاش ابھی تک ہسپتال میں پڑی ہے۔ ہسپتال اور لیبارٹری والوں کو جو بھی بتانا ہوتا ہے وہ بھی اسی پیگیسز ہوٹل میں دوڑے چلے آتے ہیں۔ آئی سی سی کے اہلکاروں نے بھی یہیں پر پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔ یہی آفیشل ہوٹل تھا جہاں گروپ ڈی کی چاروں ٹیمیں ٹھہری ہوئی تھیں۔

آئی سی سی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کہہ رہے تھے ’باب وولمر ورلڈ کپ پر چھائے ہوئے ہیں، لیکن کسی غلط وجہ سے۔ کاش یہ سب کچھ کسی اچھی خبر کےساتھ ہوتا‘۔

میڈیا کے جن لوگوں کو پیگیسز میں جگہ نہ مل سکی وہ قریبی ہوٹلوں میں ہیں، تاکہ ایک کال پر وہ یہاں پہنچ سکیں۔ لیکن یہ میڈیا کا اکٹھ بھی خوب ہوتا ہے، جیسا کہ کسی مقابلے میں ہوتا ہے کہ حریف پنپنے نہ پائے بالکل ایسے ہی مناظر پریس کانفرنس میں نظرآتے ہیں۔ ہر شخص اس طرح بلبلا کر اچھل کر سوال کرتا ہے کہ جواب نہ ملا تو نوکری کے لالے پڑ جائیں گے۔