Friday, 23 March, 2007, 16:39 GMT 21:39 PST
جب ساتویں ورلڈ کپ کے سلسلے میں میچوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا تھا تو پاکستانی ٹیم ان مقابلوں سے بہت دور کھڑی تھی۔ وہ جمیکا کے جزیرے مونٹیگو میں پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کے چند خوفناک ترین دنوں کے اختتام پر وطن واپس جانے کے لیئے اپنا سامان باندھ رہے تھے۔
پاکستانی ٹیم کے جمعرات کو کنسگسٹن کے پیگیسس ہوٹل سے روانہ ہونے سے محض چار گھنٹے بعد پولیس نے اعلان کیا کہ اسی ہوٹل میں ہونے والی ان کے کوچ کی موت کو اب وہ ایک قتل سمجھ رہے ہیں۔
لیکن ہوٹل سے روانہ ہونے سے پہلے ہی اس افواہ نے کہ باب وولمر کو قتل کیا گیا ہے ٹیم کو پریشان کرنا شروع کر دیا تھا۔
بی بی سی ارود کے شفیع نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا ’ مجھے تو یہ ایک ڈراؤنا خواب لگتا ہے۔‘ آئرلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست، پھر وولمر کی موت اور پھر ان کی موت کی تفتیش کے حوالے سے آفریدی نے کہا ’ لگتا ہے کہ یہ خواب ختم نہیں ہوگا کیونکہ ایک کے بعد دوسری بات آ رہی ہے۔‘
سخت افسوس ہے |
نائب کوچ، مشتاق احمد، جو اب وولمر کی موت کی وجہ سے قائم مقام کوچ ہیں کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم مایوس ہے اور بہت غمگین ہے۔‘
ہوٹل میں سپنسر دانش کنیریا کا کمرہ باب کے کمرے کے ساتھ ہی تھا۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے سخت افسوس ہے کہ اس مشکل وقت میں میں باب کے لیئے کچھ نہ کر سکا۔‘
کنیریا کے مطابق ’ پاکستانی ٹیم کے کوچ بننے سے پہلے بھی باب ایک عظیم کوچ تھے۔ یہ ذاتی طور میرے لیئے ایک عظیم نقصان ہے پاکستان کے لیے بہت بڑا المیہ۔‘
ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں ذرائع ابلاغ سے اپنے انفرادی انٹرویوز سمیت کسی معاملے پر بھی بات کرنے سے منع کیا ہے، لیکن ٹیم کے ترجمان پرویز جمیل میر نے بتایا کہ پولیس نے کھلاڑیوں سے جو بات چیت کی ہے وہ ’معمول‘ کی کارروائی تھی۔ ہر کھلاڑی کے ساتھ بات چیت کے دوران اس کے انگلیوں کے نشانات کے نمونے بھی لیئے گئے ہیں۔
کوئی ملوث نہیں |
جمیکا کی پولیس کے ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی کہ ٹیم کو سنیچر کے روز واپس چلے جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ باب وولمر کی میت بھی اسی طیارے میں ہوگی جس میں ٹیم لندن جائے گی۔
ادھر پاکستان میں کرکٹ بورڈ کے مستعفی ہونے والے چئیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ باب وولمر کے قتل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوئی کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں اور جمیکن پولیس کی طرف سے کھلاڑیوں سے جاری تفتیش ایک معمول کی کارروائی ہے۔