Sunday, 18 March, 2007, 20:34 GMT 01:34 PST
جمیکا میں انتقال کر جانے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر چودہ مئی 1948 کو ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے۔
وولمر نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی ابتداء 1968 میں بیس سال کی عمر میں برطانیہ کی کاونٹی کینٹ کی ٹیم سے کی۔
وہ بتایا کرتے تھے کہ کرکٹ سے ان کا پہلا تعارف اس وقت ہوا جب وہ تین سال کے تھے اور ان کے والد نے ان کے پنگھوڑے میں گیند اور بلا رکھ دیئے تھے۔
وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور درمیانی رفتار سے بالنگ کرتے تھے۔ انہیں 1975 میں برطانیہ کی طرف سے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کیپ دی گئی۔ انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ بھی انیس سو اکیاسی میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔
حالیہ ایشز سیریز میں برطانیہ کی تاریخی شکست کے بعد وولمر نے اپنے ایک بیان میں برطانوی ٹیم کی کوچنگ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
برطانیہ کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے انیس ٹیسٹ میچوں کی چونتیس اننگز میں 1059 رنز بنا رکھے تھے۔ ایک اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 149 رنز تھا۔
اس کے علاوہ انہوں نے چھ ایک روزہ میچ اور تین سو پچاس فرسٹ کلاس میچ بھی کھیلے تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اگرچہ وولمر کی وکٹوں کی تعداد صرف چار تھی لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے 420 وکٹیں لے رکھی تھیں۔
ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لیتے ہی وولمر نے جنوبی افریقہ میں کوچنگ شروع کر دی۔
جنوبی افریقہ کی کوچنگ چھوڑنے کے فیصلے کے حوالے سے وولمر کہتے تھے کہ 1999 کے ورلڈ کپ میں جب ان کی ٹیم فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی تو انہوں نے استعفیٰ دینا ہی مناسب سمجھا۔
انہیں سال 2005 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا اور 2007 کے ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں ہی پاکستانی ٹیم کی پہلے ویسٹ انڈیز اور پھر آئر لینڈ جیسی نوآموز ٹیم کے ہاتھوں شکست پر ان کے مستعفی ہونے کی نوبت ہی نہ آئی۔
![]() | |
| اس بارے میں |
وولمر نے دس ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کی جن میں سے پاکستان نے چار جیتیں، تین ہاریں اور تین کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
انہوں نے مجموعی طور پر اٹھائیس ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کے کوچ کے فرائض انجام دیئے جن میں دس ٹیسٹ پاکستان نے جیتے، گیارہ ہارے اور سات برابری پر ختم ہوئے۔
بطور کوچ، باب وولمر نے انہتر ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جن میں سے پاکستان نے سینتیس جیتے، انتیس ہارے جبکہ تین میچوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔