http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 18 March, 2007, 17:46 GMT 22:46 PST

شکست پر بھارتی شائقین برہم

پورٹ آف سپین میں ورلڈ کپ کے اپنے پہلے ہی میچ میں نسبتاً کمزور سمجھے جانے والی بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں بھارتی ٹیم کی ایک یک طرفہ مقابلے میں شکست کے بعد شائقین کرکٹ میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ملک کے بعض شہروں میں سڑکوں پر مظاہرے کیے گئے اور کھلاڑیوں کے پوسٹر جلائے گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بھارتی ٹیم کی شکست کو ملک کے عوام آسانی سے قبول نہیں کر پا رہے۔

ہندوستان کے سبھی سورما کھلاڑی بنگلہ دیش کے خلاف نا کام ر ہے ہیں اور پوری ٹیم 191 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکی تھی۔

بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بھی ماحول مایوسی سے بھرا ہوا تھا اور لوگ سٹرکوں پر نکل آئے اور ٹیم کے کوچ گریگ چیپل اور کپتان راہول دراوڈ کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔

کرکٹ کے ایک شائق انکت ملک کا کہنا تھا ’بھارت نے جس مایوس کن کھیل کا مظاہرہ کیا اس پر ہمیں افسوس ہے، لیکن پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی اتنی شاندار کارکردگی پر ہم حیران ہیں اور خوش بھی‘۔

احمدآباد میں بھی عوام کا غصہ سڑکوں پر امڈ آیا اور لوگوں نے بعض کھلاڑیوں کے پوسٹر جلائے۔ ایک طالبعلم امن وشیشٹ نے کہا ’ہندوستانی کرکٹر امیر ہیں اور وہ کھیل کی بجائے صرف اشتہاروں پر ہی دھیان دیتے ہیں‘۔

کرکٹ کے بعض شا‏ئقین کا کہنا ہے کہ ورندر سہواگ کو ٹیم میں شامل کرنا ہی ایک غلط فیصلہ تھا اور ٹیم میں عرفان پٹھان کو جگہ دینی چاہیے تھی۔

ایک شائق کا کہنا تھا کہ اب تجربات کا وقت نہیں ہے اور ٹیم کو منظم ہو کر بہتر کھیل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

پھر بھی ایک طبقہ جیت کی امید لگائے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان اگلے میچ میں بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے تو باقیماندہ میچ جیت سکتی ہے۔