Friday, 16 March, 2007, 19:16 GMT 00:16 PST
شفیع نقی جامعی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، کنگسٹن
نویں ورلڈ کپ میں ایک نئی تاریخ لکھی گئی۔ گروپ ڈی میں آئرلینڈ نے زمبابوے کے خلاف دو سو اکیس رنز بنانے کے بعد میچ کے آخری اوور کی آخری گیند پر زمبابوے کی آخری وکٹ رن آؤٹ کے ذریعے حاصل کی اور اس میچ کا اختتام ٹائی پر کیا۔
یہ میچ جمائیکا کے اسی سبائنا پارک میں کھیلا گیا جہاں ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا تھا۔اس میچ میں گراؤنڈ تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لیکن زمبابوے اور آئرلینڈ کے میچ میں شائقین کی تعداد ایک چوتھائی بھی نہ تھی۔
آئرلینڈ کا حوصلہ بڑھانے کے لیئے تین طرح کے گروپس آئے ہوئے تھے۔ایک وہ جس کے پچاس سے زائد افراد سبز لباس میں ملبوس تھے اور سروں پر انکل سیم والا بولر ہیٹ لگا رکھا تھا اور یہ گروپ ناچتا تھرکتا رہا۔
دوسرا گروپ ان پچاس افراد پر مشتمل تھا جس نے صرف سفید نیکریں پہن رکھی تھیں۔ ان کا کام ناچنا گانا اور زمبابوے کی ہر وکٹ گرنے پر ایک دوسرے کی کمر پکڑ کر انسانی ریل بناتے ہوئے باؤنڈری پر گشت کرنا تھا۔
تیسرے گروپ میں ایسی نوجوان آئرش خواتین شامل تھیں جو جمائیکن دھن پر انتہائی تیز تھرکتیں اور بعد میں آئرش نغموں پر لہراتی نظرآئیں۔
سٹیڈیم میں شائقین کی کم تعداد کا احساس دور کرنے میں ان تینوں گروپس نے بڑا کردار ادا کیا۔ سینٹ جارج اور انگلینڈ کے پرچم بھی میدان میں نظر آئے جو آئرلینڈ کے حمایتیوں کے ہاتھوں میں تھے۔
![]() | |
| پاکستان ہو یا ویسٹ انڈیز ہم نے ثابت کردیا ہے کہ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں:جانسٹن |
آئرش کپتان جانسٹن نے بی بی سی اردو سروس کے لئے اپنا وڈیو اور اردو ڈاٹ کام کے لئے خصوصی انٹرویو ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ زمبابوے کے خلاف میچ کے بعد اب یقیناً پاکستان بھی کم از کم ہمیں قدر کی نظر سے دیکھے گا۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز دونوں ٹیموں نے پریکٹس کی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ مشتاق احمد کی ناک پریکٹس کے دوران گیند پکڑنے کی کوشش میں زخمی ہوگئی ہے اور ان کی ناک پر تین ٹانکے آئے ہیں۔
اعتراض بھی مسترد |
آئی سی سی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم پر واضح کردیا ہے کہ اردو انگریزی والی پریس کانفرنس کا انداز نہیں چلے گا اور صرف انگریزی میں پریس کانفرنس ہوگی۔
پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے اس پر واویلا مچایا اور کہا کہ ہم پروٹیسٹ کرتے ہیں جس پر آئی سی نے کہا کہ پروٹیسٹ کا آپ کو حق نہیں ہے آپ صرف اعتراض کرسکتے ہیں۔ پاکستان نے کہا کہ ہم اعتراض کرتے ہیں جس پر آئی سی سی نے کہا کہ یہ اعتراض بھی ہم مسترد کرتے ہیں۔