Wednesday, 07 March, 2007, 12:33 GMT 17:33 PST
جوناتھن ایگنیو
بی بی سی کے کرکٹ کے نامہ نگار
یہ بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے تین بہترین بولروں کی ٹیم میں غیر موجودگی ٹیم کے لیے ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے۔
شعیب اور آصف کے بارے میں تو یہ شکوک و شبہات ہیں کہ کہیں وہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کی وجہ سے تو ٹیم سے باہر نہیں ہیں۔ ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ گزشتہ ستمبر کو انہوں نے ممنوعہ دوا نینڈرولین کا استعمال کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے لازمی ڈرگ ٹیسٹ سے کچھ روز پہلے ان کے ٹیم سے باہر کیے جانے سے کرکٹ کے عالمی ادارے آئی سی سی نے ایک اعلان کیا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ وہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ کرواتا رہے گا۔
شعیب اور آصف کے متبادل کھلاڑی اظہر محمود اور محمد سمیع تجربہ کار کھلاڑی ہیں لیکن تیسرے کھلاڑی یاسر عرفات نسبتاً نئے ہیں۔
عمر گل کی لائن اینڈ لینگتھ بہتر ہے اور وہ ویسٹ انڈیز کی سست وکٹوں پر بہتر گیند کر سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے سپیشلسٹ سپنر دانش کنیریا ہیں جن میں صلاحیت ہے کہ بیٹسمینوں کو پریشان کر سکیں۔
کیریبین میں آہستہ گیند بڑی کارآمد ہو سکتی ہے۔
![]() | |
| شعیب اور آصف کی غیر موجودگی میں عمر گل پر دباؤ بڑھ گیا ہے |
یہ تینوں بیٹسمین اس قابل ہیں کہ بغیر کوئی رسک لیے تیز رن بنا سکیں۔
ان کے برعکس عمران نذیر جاتے ہی شاٹس کھیلنے شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح ٹھیک ہی ہے کیونکہ ٹیم میں کوئی تو ہونا چاہیئے جو شاٹس کھیل سکے۔ اگر ان کی جارحانہ بیٹنگ جاری رہی تو بولرز کو پریشانی ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو جو ایک اور مسئلہ درپیش ہے وہ وکٹ کیپر کامران اکمل کی فارم ہے۔ حالیہ دنوں میں وہ اچھی وکٹ کیپنگ اور رنز بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ لیکن عالمی کپ کے وارم اپ میچ میں ان کی کارکردگی دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کی فارم واپس آ جائے گی اور یہ ان کے لیے ایک اچھا ٹورنامنٹ ثابت ہو گا۔
پاکستان کا پہلا میچ میزبان ٹیم کے ساتھ جمیکا میں ہو رہا جو کہ ایک دلچسپ آغاز ہو گا۔