Friday, 02 March, 2007, 11:41 GMT 16:41 PST
محسن عباس
ٹورانٹو، کینیڈا
گیارہ سالہ مسلمان لڑکی کو سکارف پہن کر فٹبال کھیلنے سے روکنے پر کینیڈین صوبے کیوبک میں ایک بار پھر اقلیتوں کے حقوق کی بحث چھڑگئی۔
سکارف پہن کر فٹبال کھیلنے کے اس تنازعہ پر سنیچر کو برطانیہ کے شہرمانچسٹر میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے اجلاس میں بحث ہوگی۔
آٹوا کی فٹبال ٹیم نیپئین سنیچر ب کی طرف سے کھیلنے والی اسماہان منصور کو کینیڈا کے فرانسیسسی اکثریت والے صوبے کیوبک کے شہر لاوال میں ہونے والے ایک فٹبال ٹورنامنٹ میں میچ ریفری نے سکارف پہن کر کھیلنے سے روک دیا۔ ریفری کے اس فیصلے کے بعد اسماہان کی پوری ٹیم نے بھی کھیلنے سے انکار کردیا۔
اسماہان نے بتایا کہ جب وہ کھیلنے کےلیے میدان میں گئیں تو ریفری تیزی سے ان کی طرف آئیں اور ان سے کہا کہ وہ فوراً میدان سے باہر چلی جائیں۔
اسماہان کہتی ہیں کہ انہوں نے سوچا کہ انہوں نے ایسا کیا کیا ہے کہ ریفری انہیں میدان سے جانے کے لیے کہہ رہی ہیں۔
ریفری لئیس عارفہ نے ان سے کہا کہ ’تم نہیں کھیل سکتیں‘۔ ریفری اور اسماہان کی اس گفتگو کے دوران ٹیم کے کوچ بھی وہاں آ گئے اور ان کی ریفری سے تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ اس کے بعداسماہان کی پوری ٹیم ان کے ساتھ گراؤنڈ سے باہر آگئی۔
یاد رہے کہ ریفری خود بھی مسلمان ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں ہے اور انہیں قوانین کے تحت اپنے فرائض انجام دینے ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کینیڈا میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی فیفا کے قوانین کی رو سے خواتین کھلاڑیوں کے سکارف پہننے پر کوئی پابندی ہے۔ تاہم صوبے کیوبک کی فٹبال فیڈریشن نے ریفری کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔
کیوبک فٹبال فیڈریشن کی ترجمان مشعیل ڈوگاس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے فٹبال کی دوسری صوبائی تنظیموں کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے اور اگر وہ اس بات پر متفق ہوں گے کہ فٹبال کھیلنے کے دوران حجاب یا سکارف پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے تو وہ کیوبک میں بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی اور اس فیصلے کے لیے طویل انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
یہ مسلمان لڑکی سے ناانصافی ہے |
ادھر صوبہ کیوبک کے پریمئر جین چاریسٹ نے مسلمان لڑکی کے سکارف پہن کر کھیلنے پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کھیلوں کی تنظیموں کو پورا حق ہے کہ وہ ان قوانین کو لاگو کریں جنہیں وہ بہتر سمجھتے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد کینیڈا بھر میں کیوبک حکومت اور فٹبال فیڈریشن کو مسلمان حلقوں میں زبردست تنقید کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ کیوبک میں اقلیتوں کا شروع دن سے یہ شکوہ ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اور اس واقعہ کے بعد یہ بحث دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
ریفری لئیس عارفہ کا کہنا ہے کہ دوران کھیل سر پر کسی قسم کی ایسی چیز پہننا ممنوع ہے جوکھیل کے دوران کھلاڑی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہو اور یہ فٹبال قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
مسلم کونسل آف مانٹریال کے ترجمان سلمان المناوی کا کہنا ہے کہ صوبہ انٹاریو میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور وہاں پر کھلاڑیوں کو ان کے مذہبی ملبوسات پہننے کی مکمل اجازت ہے اور کیوبک صوبے کو بھی کھلاڑیوں کے مذاہب کا احترام کرنا چاھیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اقلیتوں کو مکمل آزادی ہونی چاہیے نہ کہ ان کی شناخت اور حقوق پر پابندیاں عائد کی جائیں۔