http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 01 March, 2007, 14:22 GMT 19:22 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

مسئلہ صرف فٹنس کا،’یقین نہیں آتا‘

ڈوپنگ کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس بات کا یقین دلانا آسان نہیں کہ فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کو ورلڈ کپ سکواڈ سے باہر کر دینے کا تعلق ان کی فٹنس سے ہے۔

ڈاکٹر دانش ظہیر اس اپیل ٹریبونل کے رکن تھے جس نے ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کی پاداش میں شعیب اختر اور محمد آصف پر عائد کردہ پابندی کی سزا ختم کر دی تھی تاہم انہوں نے اپنے دیگر دو ساتھیوں جسٹس ( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم اور حسیب احسن سے اختلاف کرتے ہوئے پابندی کی سزا کے خاتمے کو غلط فیصلہ قرار دیا تھا۔

فٹنس یا ڈوپنگ،حقیقت کیا ہے؟

برونائی میں مقیم ڈاکٹر دانش ظہیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے دنیا کو یہ سمجھانا آسان نہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف کو محض فٹنس کی بنیاد پر ٹیم سے باہر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات شکوک وشبہات کو جنم دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر دانش ظہیر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں بولرز کی چوٹوں کی نوعیت ہی نہیں بتائی اور نہ ہی یہ بتایا کہ انہوں نے کس ڈاکٹر سے رجوع کیا اور اس نے ایسی کونسی تکلیف بتائی کہ دونوں کو ٹیم سے دستبردار کرانا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ عام حالات میں تین دن ہی میں پتہ چل جاتا ہے کہ تکلیف کی نوعیت کیا ہے اور کھلاڑی تین سے آٹھ ہفتے تک فٹ رہے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر دانش ظہیر کے مطابق جب دیگر کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کرائے گئے تو دونوں کے ڈوپ ٹیسٹ کی تاخیر کا کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ زخمی کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کے ڈوپ ٹیسٹ ساری دنیا میں ہوتے ہیں یہاں تک کہ جو ایتھلیٹس زخمی ہو کر ہسپتال میں داخل ہو تو وہاں بھی ان کے ڈوپ ٹیسٹ کا انتظام کیا جاتا سکتا ہے۔

اس سوال پر کہ دونوں بولرز کے جسم میں ممنوعہ دوا نینڈرلون کی مقدار کی کیا صورتحال ہوگی، ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ جب اکتوبر میں ان کے ڈوپ ٹیسٹ ہوئے تھے تو دونوں کے جسم میں تیرہ اورچودہ نینوگرام مقدار پائی گئی تھی جو ان کے خیال میں اب اس وقت تین اور چار نینوگرام ہو سکتی ہے اور اسے مزید کم کرنے کے لیے اب بھی مزید پندرہ دن درکار ہوں گے۔

ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کرکٹ بورڈ یہ کہتا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف نے لاعلمی میں ممنوعہ دوا کا استعمال کیا تو اس نے آئی سی سی کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا کہ یہ معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں ہے اور ان کی کم ہوتی ہوئی مقدار یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ وہی پرانی دوا ان کے جسم میں موجود ہے۔

دوبارہ ٹیسٹ کے بارے میں ڈاکٹر دانش ظہیر نے کہا کہ ڈوپنگ کنٹرول کرنے والوں کی تربیت بھی ضروری تھی کیونکہ وہ اب بھی یہ بات کہتے ہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ میں مروجہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اسی لیے انہوں نے اختلافی نوٹ لکھا تھا۔

ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ صورتحال سے صحیح طور پر نمٹنے میں ناکام رہا ہے اور جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کا فیصلہ بھی آگے چل کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔