http://bbc.com.im/urdu/

ڈیرل ہیئرکا نسلی امتیاز کا الزام واپس

کرکٹ امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے خلاف نسلی امتیاز کا الزام واپس لے لیا ہے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیرل ہیئر نے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) دونوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا تھا۔ واضح رہے کہ انہیں اوول کے میدان میں پاکستان کے خلاف فیصلہ سنانے کے بعد آئی سی سی نے اپنے ایلیٹ امپائروں کے پینل سے خارج کر دیا تھا۔

’نسلی تعصب کا شکار ہوا ہوں‘

پی سی بی کے ایک افسر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ اب ڈیرل ہیئر نے ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہا ’ہمیں اس پر حیرت نہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف نسل پرستی جیسا مضحکہ خیز الزام واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ڈیرل ہیئر نے اگرچہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کے خلاف الزام واپس لے لیا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے آئی سی سی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ترک نہیں کیا ہے۔

شروع میں ڈیرل ہیئر کا خیال تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ’غیرقانونی طریقے‘ استعمال کیے تھے۔

اگرچہ آئی سی سی کے ساتھ ڈیرل ہیر کے امپائرنگ کے معاہدے کی معیاد مارچ دو ہزار آٹھ تک ہے لیکن انہیں اگلے ماہ ویسٹ انڈیز میں ہونے والے عالمی کپ کے مقابلوں کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔

اس دوران چون سالہ آسٹریلوی نے، جو آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے امپائروں کی لسٹ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر وہ اس فہرست پر ہوتے تو وہ فرسٹ کلاس میچوں میں امپائرنگ کر سکتے تھے۔

اس ماہ کے اوائل میں ڈیرل ہیئر کے وکیل نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا ’ ہمارا اور ہمارے موکل ڈیرل ہیئر کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ ناقابل قبول اور گھٹیا رویہ اپنایا گیا تھا۔ اس معاملے میں سچ یہ ہے کہ اگر وہ سفید فام نہ ہوتے توڈیرل ہیئر کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔‘