Wednesday, 21 February, 2007, 22:59 GMT 03:59 PST
عالمی کپ کرکٹ کے مقابلوں میں ہندوستان کی ٹیم کی شرٹس کے حوالے سے اس وقت ابہام پیدا ہوگیا جب ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی مداخلت کے بعد اس کے ایک قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ تمام کھلاڑی صرف اس کی منظور شدہ ’کِٹ‘ پہنیں گے۔
اس صورتِ حال پر آئی سی سی نے ہندوستان کرکٹ بورڈ کو وضاحتی ای میل بھیجی جس کے بعد نتیجہ یہ ہوا کہ نائیکے کمپنی کو ایک وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ اس کی بنی ہوئی کٹ ہندوستانی کھلاڑی ایک روزہ میچوں میں پہنیں گے مگر یہ ایک روزہ میچ عالمی کپ کے میچوں کے علاوہ ہوں گے۔
نائیکے کے اس بیان سے کمپنی کے بڑوں کی سبکی ہوئی ہے کیونکہ آئی سی سی قواعد کے مطابق کوئی بھی ٹیم عالمی کپ کرکٹ کے دوران ایسی کٹس نہیں پہن سکتی جن پر سپانسرز کے نام ہوں۔
ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ کرکٹ کی عالمی کونسل نے نائیکے کی جرسی کو مسترد کر دیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے نائیکے کی جو شرٹس پہن کر تصویریں بنوائیں، یہ وہ نہیں ہیں جنہیں پہن کر ہندوستانی کھلاڑی عالمی کپ کے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ ’آئی سی سی پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ہندوستانی کھلاڑی کونسی کٹ پہن کر میدان میں اتریں گے۔‘
نائیکے نے ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے ساتھ پانچ سال کے لیے چالیس ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہوا ہے جس کے تحت وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی سپانسر کمپنی ہے۔