Wednesday, 21 February, 2007, 11:33 GMT 16:33 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم اس وقت ایک مشکل دو راہے پر کھڑی ہے۔فٹنس مسائل کے ساتھ ساتھ ڈوپنگ کے مسئلے نے اسے بری طرح اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔
کرکٹ بورڈ کے سامنے سب سے اہم سوال شعیب اختر اور محمد آصف کی عالمی مقابلے میں شرکت سے متعلق ہے۔ان دونوں کی ورلڈ کپ میں شرکت کا انحصار فٹنس کے ساتھ ساتھ ان کے ڈوپ ٹیسٹ کے نتیجے پر ہے۔
محمد آصف جنوبی افریقہ کے دورے کے فوراً بعد کہنی کےعلاج کے لیےانگلینڈ چلےگئے ہیں۔
شیعب اختر پہلےگھٹنے کی تکلیف کے بارے میں معالج کی رائے لینےانگلینڈ چلےگئےاور پھر جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ سکواڈ کے ڈوپ ٹیسٹ کے لیے یورین سمپلز (پیشاب کے نمونے) حاصل کرنے شروع کیے وہ کسی کمرشل کی شوٹنگ کے لیے ملائشیا چلے گئے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ محمد آصف اور شعیب اختر ڈوپ ٹیسٹ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ جمعرات سے لاہور میں شروع ہونے والے تربیتی کیمپ کے موقع پر محمد آصف اور شعیب اختر اور شاہد آفریدی کے ڈوپ ٹیسٹ کے لیے پیشاب کے نمونےحاصل کرلیے جائیں گے۔
اگر شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ دوبارہ مثبت پائےگئے تو بین الاقوامی قواعد وضوابط کے تحت ان پر تاحیات پابندی عائد ہوجائے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اپنے کرکٹرز کے ڈوپ ٹیسٹ کرانے کا مقصد ورلڈ کپ میں کسی ممکنہ شرمندگی سے بچنا ہے لیکن دوسری جانب اسے اس خطرے کا ابھی سے احساس ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے جسم میں نینڈرلون کے اثرات بدستور موجود ہوں گے اور اس صورت میں ایک اور ڈوپ ٹیسٹ ان دونوں بولرز کو تاحیات پابندی کے خطرے سے دوچار کرسکتا ہے۔
اگر ایسا ممکن ہوتا تو ہیروئن کے عادی افراد کو دو دن میں دوائیں دے کر ٹھیک کرلیا جاتا۔ اینابولک سٹیرائڈ کے اثرات آہستہ آہستہ ختم ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر دانش ظہیر کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کو واڈا اور کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے محاذ آرائی کے بجائے اس معاملے کو جلد سےجلد نمٹانا چاہیے تھا۔
ڈاکٹر دانش کے خیال میں واڈا اور عالمی ثالثی عدالت جیسے ادارے کسی مقصد کے تحت وجود میں آئے ہیں ان کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے اور یہ جلد بازی کیے بغیر اپنے قوانین کے تحت معاملات نمٹاتے ہیں۔
اگر دونوں فاسٹ بولروں کو ورلڈ کپ میں کھیلایا جاتا ہے اور وہ واڈا ٹریبونل میں اپنا کیس ہارجاتے ہیں تو ان میچوں کا کیا ہوگا جو یہ بولرز جتوائیں گے۔
مبصرین کا خیال ہے ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی سے وضاحت حاصل کر لینی چاہیے کہ ثالثی عدالت سے کیس ہارنے کی صورت میں ان بولرز کی کارکردگی والے میچز کالعدم تو قرار نہیں دیئے جائیں گے۔