http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 February, 2007, 15:12 GMT 20:12 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’پاکستان کے پاس سب سے زیادہ میچ وِنر‘

ورلڈ کپ کے لئے اعلان کردہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی ملی جلی آراء سامنے آئی ہیں جن میں اچھی کارکردگی کی توقعات کے ساتھ ساتھ کچھ خدشات بھی ہیں۔

سابق کپتان عمران خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم ورلڈ کپ میں فیورٹ ہے لیکن بقیہ تمام ٹیموں کے مقابلے میں پاکستان کے پاس سب سے زیادہ میچ ونر کھلاڑی موجود ہیں۔ اگر وہ فٹ رہے اور پاکستانی ٹیم مثبت اور جارحانہ حکمت عملی کے مطابق کھیلی تو اچھے نتائج دے سکتی ہے‘۔

سب سے زیادہ میچ ونر
 بقیہ تمام ٹیموں کے مقابلے میں پاکستان کے پاس سب سے زیادہ میچ ونر کھلاڑی موجود ہیں۔
 
عمران خان

سابق کپتان عامرسہیل کے خیال میں منتخب کردہ ٹیم متوازن ہے البتہ وہ عمران نذیر کے مقابلے میں عمران فرحت کو موقع دینے کے حق میں ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ’تین اہم بولرز کا فٹنس مسائل سے دوچار ہونا اور اہم بیٹسمینوں کا فارم میں نہ ہونا نیک شگون نہیں ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم فارم میں آتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی وکٹوں اور موسمی حالات سے جلد ازجلد ہم آہنگ ہوگئی تو وہ اچھی کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے‘۔

نیک شگون نہیں
 تین اہم بولرز کا فٹنس مسائل سے دوچار ہونا اور اہم بیٹسمینوں کا فارم میں نہ ہونا نیک شگون نہیں۔
 
ہارون رشید

ہارون رشید کا کہنا ہےکہ ’چار سال قبل جنوبی افریقہ میں منعقدہ عالمی کپ کے بعد سے اس ورلڈ کپ تک کا سفر حوصلہ افزا نہیں رہا۔ یہ درست ہے کہ کھلاڑیوں کا ان فٹ ہونا کھیل کا حصہ ہے اور ہر ٹیم اس کا شکار ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ متواتر تبدیلیوں کے سبب پاکستانی ٹیم سیٹ نہیں ہوسکی۔ چار سال کے عرصے میں یاسرحمید، عمران فرحت، سلمان بٹ اور توفیق عمر کو کھلایا جاتا رہا اور جب ورلڈ کپ کا وقت آیا تو اچانک عمران نذیر ٹیم میں شامل کرلئے گئے‘۔

سابق فاسٹ بولر سکندربخت بھی موجودہ صورتحال کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی ٹیم ناقابل اعتبار ہے اور وہ اچانک گر کر سنبھلتی ہے لہذا اس سے کسی بھی وقت چونکا دینے والی کارکردگی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ بظاہر یہ متوازن ٹیم ہے لیکن ڈوپنگ اور فٹنس کے معاملات نے بے یقینی کی کیفیت پیدا کررکھی ہے۔انہیں اب بھی یقین نہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف ورلڈ کپ کھیل سکیں گے‘۔

ٹیم ناقابل اعتبار
 پاکستانی ٹیم ناقابل اعتبار ہے اور وہ اچانک گر کر سنبھلتی ہے۔
 
سکندر بخت

سکندر بخت بھی ہارون رشید کی طرح یہ رائے رکھتے ہیں کہ ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی ٹیم کا سفر درست سمت میں نہیں ہوسکا اس کی وجہ وہ کرکٹ بورڈ میں آنے والی تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں۔

سکندر بخت کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ سینئر کھلاڑیوں کا بیک اپ تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اس کی وجہ بھی کھلاڑی خود ہیں جو نہیں چاہتے کہ کوئی نیا کھلاڑی ٹیم میں آئے اور ان کی پوزیشن خطرے سے دوچار ہو‘۔

ٹیم متوازن ہے
 منتخب کردہ ٹیم متوازن ہے۔
 
عامر سہیل

سکندر بخت کے خیال میں کوچ باب وولمر بھی پاکستانی معاشرے کے رنگ میں رنگ گئے ہیں۔ ’ایسا کئی بار ہوا کہ کیمپ لاہور میں لگا ہوا ہے اور وہ ملک سے باہر رہے ہیں۔وہ اچھے کوچ ضرور ہوں گے لیکن پاکستانی ٹیم کو وہ کھلاڑیوں کے بیک اپ تیار کرکے نہ دے سکے۔ اوپننگ کا مسئلہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ کھلاڑیوں کی فٹنس کا مسئلہ جاری رہا حالانکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان ٹرینرز اور فزیو کو بھاری معاوضوں پر رکھا ہوا ہے جن کے لئے باب وولمر نے کہا تھا‘۔

سابق فاسٹ بولر جلال الدین کا کہنا ہے کہ ’ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم سے غیرمعمولی کارکردگی کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ فارم اور فٹنس کے مسائل کے ساتھ ویسٹ انڈیز جائے گی اور ان کے خیال میں اس کا سیمی فائنل تک پہنچنا مشکل نظرآتا ہے‘۔