Wednesday, 07 February, 2007, 18:26 GMT 23:26 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کھیلوں میں ثالثی کی عالمی عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع کردیا ہے کہ وہ ایک آزاد پینل تشکیل دے رہی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گا کہ ثالثی عدالت پاکستانی فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ کیس کی سماعت کی مجاز ہے یا نہیں؟
اگر پینل نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ کیس عالمی ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو پھر اس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگی۔
شعیب اختر اور محمد آصف گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کرائے گئے ڈوپ ٹیسٹ کی مثبت رپورٹ کے بعد بالترتیب دو اور ایک سالہ پابندی کی سزا کی زد میں آئے تھے لیکن بعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ ہی کے قائم کردہ اپیل ٹریبونل نے ان دونوں بولرز کی سزا ختم کردی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کو شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ کیس کی سماعت کا اختیار نہیں کیونکہ یہ اس کا اندرونی معاملہ تھا جسے اس نے اپنے قواعدوضوابط کے مطابق نمٹایا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے برخلاف بیرسٹر شاہد حامد جو شعیب اختر اور محمد آصف کو ممنوعہ ادویات استعمال کرنے پر پابندی کی سزا دینے والے کمیشن کے سربراہ تھے یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان واڈا کے قواعد و ضوابط کا پابند ہے۔
اس سلسلے میں وہ2003ء کے کوپن ہیگن معاہدے کی مثال دیتے ہیں جس پر حکومت پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں اور اس کی رو سے پاکستان واڈا کے قواعد و ضوابط کو تسلیم کرنے کا پابند ہے۔
ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ( واڈا) نے شعیب اختر اور محمد آصف کی بریت کے فیصلے کو کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کررکھا ہے تاہم اس کی سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوسکی ہے اور تازہ ترین پیش رفت کے مطابق عالمی ثالثی عدالت نے تین رکنی پینل تشکیل دے دیا ہے جو امریکہ کے اٹارنی ایٹ لاء ڈیوڈ لیوکن، انگلینڈ کے بیرسٹر پیٹر لیور اور فرانس کے اٹارنی ایٹ لاء ژان پالسن پر مشتمل ہے۔