Wednesday, 07 February, 2007, 10:43 GMT 15:43 PST
ایمپائر ڈیرل ہیئر نے انٹرنیشل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف نسلی امتیاز برتنے کے الزام میں قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈیرل ہیئر کو اوول کرکٹ گروانڈ میں پاکستان کےخلاف فیصلہ کرنے کی پاداش میں انٹرنیشنل میچوں میں تعینات نہیں کیا جاتا ہے۔
ڈیرل ہیئر نے اگست 2006 میں اوول ٹیسٹ میچ میں پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگا کر گیند کو بدل دیا تھا اور جرمانے کے طور پر مخالف ٹیم کو پانچ اضافی رنز دیئےتھے۔ ڈیرل ہیئر نے پانچ لاکھ ڈالر کے عوض مستعفی ہونے کی بھی پیشکش کی تھی۔
اوول ٹیسٹ میں چائے کے وقفے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دیر سےگراوانڈ میں آنے کی پاداش میں انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔
![]() | |
| ’صرف مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے‘ |
ہیئر کا الزام واہیات ہے |
ڈیرل ہیئر کا موقف ہے کہ پاکستان نے نسلی تعصب کی بنیاد پر ان کے خلاف مہم چلا کر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو ان کے خلاف ایکشن لینے کی ترغیب دی۔
ڈیرل ہیئر کا کہنا ہے کہ ان خلاف ایکشن نسلی تعصب کا نتیجہ ہے کیونکہ ان کے ساتھی ویسٹ انڈین ایمپائر بلی ڈاکٹرو کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف نے ڈیرل ہیئر کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو ڈیرل ہیئر کے موقف پر غصہ ہے کیونکہ پاکستان نسلی تعصب کے سخت خلاف ہے۔
انہوں نے کہا ڈیرل ہیئر پاکستان کے زخموں پر نمک پاشی کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ ڈیرل ہیئر کا موقف انتہائی واہیات ہے اور یہ ڈیرل ہیئر کی ذہنی کیفیت کا عکاس ہے۔
![]() | |
| ڈیرل ہیئر نے پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگایا |
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ممبران کے اجلاس کے بعد آئی سی سی کے صدر پرسی سون نے کہا تھا کہ آئی سی سی کا ڈیرل ہیئر سے اعتماد اٹھ چکا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر نسیم اشرف نے کہا ڈیرل ہیئر اوول میچ میں سینئر ایپمائر تھے اور سب کو معلوم ہے کہ صرف وہ کھیل کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں تھے۔
انہوں نے کہا اوول ٹیسٹ کا واقعہ کرکٹ کی تاریخ پر بدنما داغ ہے اور اس کے ذمہ دار صرف اور صرف ڈیرل ہیئر ہیں۔