Thursday, 01 February, 2007, 17:13 GMT 22:13 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کی پندرہ رکنی کرکٹ ٹیم کا انتخاب جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران ہونا ہے اس مقصد کے لیے چیف سلیکٹر وسیم باری جنوبی افریقہ روانہ ہوچکے ہیں جہاں وہ کپتان انضمام الحق سے مشورے کے بعد ٹیم کو حتمی شکل دینگے۔
ورلڈ کپ سکواڈ کے ضمن میں یہ سوال ہرخاص وعام کی زبان پر ہے کہ کیا فاسٹ بولر شعیب اختر ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرسکیں گے؟
شعیب اختر خود اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ ورلڈ کپ میں اپنے ملک کے لیے تیسری مرتبہ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں دو مرتبہ سو میل فی گھنٹہ کی حد عبور کرنے والے ’راولپنڈی ایکسپریس‘ کے لیے پاکستانی ٹیم میں واپسی آسان نظر نہیں آتی اس کی وجہ ان کی فٹنس اور ٹیم منیجمنٹ سے ناخوشگوار تعلقات ہیں۔
شعیب اختر کو پہلے منتخب نہ کرنے کے بعد جنوبی افریقہ بھیجاگیا لیکن ایک اننگز میں بولنگ کے بعد ہی وہ ان فٹ ہوگئے۔ستم بالائے ستم کوچ باب وولمر کے ساتھ جھگڑے کے نتیجے میں ان پر ٹیم کے منیجر طلعت علی نے جرمانہ بھی عائد کیا۔
باب وولمر سے جھگڑا |
چیف سلیکٹر وسیم باری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ مکمل فٹ شعیب اختر ہی پاکستانی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کا ان فٹ ہوجانا ٹیم کو مہنگا پڑتا ہے اور اس بات کو یقینی مان کر کہ شعیب اختر فٹ ہیں انہیں ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔
شعیب اختر اپنے کریئر میں مختلف مسائل سے دوچار رہے ہیں جن میں مشکوک بولنگ ایکشن، فٹنس، ڈسپلن کی خلاف ورزی اور ڈوپنگ قابل ذکر ہیں۔
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز انہیں مختلف انداز سے دیکھتے ہوئے متضاد آراء رکھتے ہیں۔
رمیز راجہ کہتے ہیں: |
رمیز راجہ کے خیال میں شعیب اختر کو اپنے رویے پر توجہ دینی چاہیے اور دوسروں کو اپنے بارے میں منفی رائے قائم کرنے کا موقع ہی نہیں دینا چاہیے۔
شعیب اختر نے جب نوسال قبل پہلا ٹیسٹ کھیلا تو ہارون رشید پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے۔ ہارون رشید شعیب اختر کی مرحلہ وار کارکردگی اور کامیابی کو توقعات کے مطابق قرار نہیں دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ شہرت ملنے کی وجہ سے وہ اپنے مقصد سے ہٹ گئے۔
سابق کپتان اور کوچ جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ کرکٹر اپنے کیے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اگر وہی اپنا خیال نہیں رکھے گا کوئی دوسرا اس پر کتنی توجہ دے سکتا ہے۔ شعیب اختر اپنی فٹنس پر مکمل توجہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔
عمران خان کی رائے |
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیرضیا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام ہے کہ شعیب اختر پاکستانی ٹیم کی ضرورت ہیں یا نہیں۔ اگر وہ ٹیم کے لیے ضروری ہیں تو ٹھیک ورنہ اگر بورڈ سمجھتا ہے کہ وہ ٹیم کے لیے مسئلہ ہیں تو انہیں باہر کردینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔