Thursday, 25 January, 2007, 11:58 GMT 16:58 PST
نسل پرستانہ فقرے بازی کرنے پر جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ہرشل گبز کے کھیلنے پر لگی پابندی کے خلاف کی گئی اپیل کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری موجودہ سیریز کے سنچورین ٹیسٹ کے دوران وکٹوں پر لگے مائیکرو فون کے ذریعے گبز پاکستانی شائقین کرکٹ کے بارے میں فقرے بازی کرتے ہوئے سنے گئے تھے۔
اپیل مسترد ہونے کے بعد اب گبز سیریز کا تیسرا ٹیسٹ میچ اور پانچ ایک روزہ میچوں کے پہلے دو میچ نہیں کھیل پائیں گے۔
تاہم اپیل کمشنر آسٹریلیا کے سابق کپتان رچی بینیو کا کہنا تھا: ’میں ہرشل گبز کا شمار نسل پرستوں میں ہر گز نہیں کرتا‘۔ بینیو نے گبز کی اپیل بدھ کو ایک ٹیلی کانفرنس کے ذریعے سنی۔
ٹیلی کانفرنس میں آئی سی سی کے میچ ریفری کِرس براڈ، گبز اور ان کے وکلاء نے بھی شرکت کی۔ گبز کی جوابی فقرے بازی اس وقت سنی گئی جب کچھ تماشائی ان کے ساتھی پال ہیرس پر فقرے کس رہے تھے۔
پابندی کے خلاف اپیل زیر غور ہونے کی وجہ سے گبز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی کھیلے تھے، جو پاکستان نے جیت کر سیریز ایک ایک سے برابر کر دی ہے۔
گبز کے وکلاء کا موقف تھا کہ آئی سی سی کے اصولوں کے تحت وکٹوں پر لگے مائیکرو فونز کو بند ہونا چاہیے اور اس لیے ان کے ذریعے ریکارڈ کی گئی گفتگو کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن رچی بینیو کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اپیل دائر کرنے کے لیے یہ کوئی ٹھوس جواز نہیں بنتا۔ بینیو کا شمار آئی سی سی کے تجربہ کار اپیل کمشنرز میں ہوتا ہے۔
اپیل خارج کرتے ہوئے انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا: ’ میں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کے کھلاڑیوں کو ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مائیکرو فون کام کر رہے ہیں۔ یہ صرف وکٹوں پر لگے مائیکرو فون ہی نہیں بلکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو چینلز اور پریس کانفرنس کی کوریج کے دوران استعمال ہونے والے مائیکرو فون بھی ہو سکتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا: ’اس میں کوئی بد نیتی شامل نہیں تھی، بس کوئی مائیکرو فون بند کرنا بھول گیا تھا‘۔