Monday, 22 January, 2007, 18:08 GMT 23:08 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے جنوبی افریقہ کے خلاف پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستان کی پانچ وکٹوں کی جیت کو شاندار قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ سامنے آنے والی خامیوں پر بھی توجہ دینے پر زور دے رہے ہیں۔
شعیب اختر کے بارے میں سوال پر جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی خود ہی سنبھلنے کے لیے تیار نہ ہو تو کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کو پہلے بھیجا جاتا یا بعد میں بھیجا گیا انہیں کوئی فرق نظرنہیں آیا۔
سابق کپتان انتخاب عالم کے خیال میں یہ ایک شاندار جیت ہے۔ شعیب اختر نے پہلے دن جو بالنگ کی اس نے جیت کی بنیاد رکھی لیکن بعد میں ان کی غیرموجودگی میں جس طرح انضمام الحق نے تین بالرز کے ساتھ کام لیا وہ قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد آصف اور دانش کنیریا نے شاندار بولنگ کی۔ خود انضمام الحق کی بیٹنگ انتہائی عمدہ رہی اور دراصل اسی اننگز نے پاکستانی ٹیم کو جیت کے قابل بنایا۔
انتخاب عالم نے شعیب اختر کے ان فٹ اور باب وولمر کے ساتھ تلخ کلامی کے واقع کے بارے میں کہا کہ یہ ٹیم منیجیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورتحال کو سنبھالے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد جس طرح کم بیک کیا وہ شاندار اور متوقع تھا کیونکہ پاکستانی ٹیم میں فائٹنگ سپرٹ موجود ہے۔
صلاح الدین صلو نے موجودہ سلیکشن کمیٹی کو ربڑ سٹمپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ شعیب اختر کو پہلے نہ بھیجنے کا قدم غلط تھا یا بعد میں بھیجنے کا۔
باب وولمر کے ساتھ شعیب اختر کے جھگڑے کے بارے میں صلاح الدین صلو نے کہا کہ ڈسپلن پر عملدرآمد ٹیم کے منیجر طلعت علی کی ذمہ داری ہے۔
سابق بیٹسمین اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ ٹیم کو اختلافات ختم کرکے ورلڈ کپ پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ جیت کر پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہوئی ہے جس سے اسے تیسرے ٹیسٹ میں فائدہ اٹھانا چاہئیے۔