Wednesday, 17 January, 2007, 14:57 GMT 19:57 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ سے قبل اپنے تمام تیس ممکنہ کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ڈوپنگ کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ آنے تک شعیب اختر اور محمد آصف کے دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ نہ کرائے جائیں۔
ڈاکٹر دانش ظہیر اس اپیل ٹریبونل کے رکن تھے جس نے شعیب اختر اور محمد آصف کو ڈوپنگ کیس میں بری کردیا تھا لیکن ڈاکٹر دانش ظہیر نے اپنے دیگر دو ساتھیوں جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم اور حسیب احسن کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شعیب اور آصف ڈوپ ٹیسٹ کے وقت مروجہ بین الاقوامی طریقہ کار کو نہیں اپنایا گیا تھا۔
ڈاکٹر دانش ظہیر نے برونائی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو شعیب اختر اور محمد آصف کے دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ سے پہلے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔
اس بارے میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ انہوں نے شعیب اور آصف کی بارے میں کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے اور باہم مربوط ہو کر سمیٹنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے شعیب اختر اور محمد آصف کو بری کیے جانے کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اسے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہتر یہی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا انتظار کرے اگر ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستانی بولرز کے حق میں آتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ موقف مضبوط ہوجائے گا کہ ان بولرز نے لاعلمی میں ممنوعہ ادویات استعمال کی تھیں اور ورلڈ کپ میں ڈوپ ٹیسٹ کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی پرانے اثرات ہیں جو ان بولرز کے جسم میں پائے گئے ہیں۔
ڈاکٹر دانش ظہیر کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس مرتبہ ڈوپنگ کے ماہر حضرات کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی اور سابقہ غلطیوں سے بچنا ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کے ڈاکٹر سہیل احمد سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ورلڈ کپ سے قبل ہونے والے ڈوپ ٹیسٹ میں اگر شعیب اختر اور محمد آصف دوبارہ مثبت ثابت ہوئے تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کس بنیاد پر یہ موقف اختیار کرسکے گا کہ یہ اثرات پرانے ہیں؟ تو ڈاکٹر سہیل احمد نے کہا کہ فی الحال وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔